خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 387
خطبات مسرور جلد ہفتم 387 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 ہوتے تھے۔اور دنیا میں ہر جگہ خدمت کا جذبہ لئے ہوئے احمدیوں کی یہ خوبصورتی ہے کہ جب بھی کسی جماعتی کام کے لئے بلاؤ، تو دوڑے چلے آتے ہیں۔پس اس جذ بہ کو قائم رکھنا ہر احمدی کا فرض ہے۔اس سال جلسہ سالانہ جرمنی سے چند دن پہلے میں نے بعض وجوہات کی بنا پر اوپر کی انتظامیہ میں تبدیلی کی تھی لیکن انتظامات کو دیکھ کر کوئی احساس نہیں ہوتا تھا کہ افسر جلسہ سالانہ بدلا گیا ہے تو اس وجہ سے کہیں بھی کام کے دھارے میں کوئی روک پیدا ہوئی ہے یا کہیں کام انکا ہوا ہے یار کا ہوا ہے۔گزشتہ جلسہ سالانہ میں یا اس سے پہلے سالوں میں جن کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی گئی ، یا کارکنان نے خود کمیاں محسوس کیں انہیں بڑی خوبصورتی سے ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی۔یوکے کے جلسہ سالانہ میں جو اچھائیاں انہیں نظر آئیں انہیں سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے فائدہ بھی اٹھایا۔ایک مومن کا فرض ہے کہ اگر کہیں اچھائی دیکھے تو اسے اختیار کرنے کی کوشش کرے نہ کہ حسد کے جذبے سے اس میں کیڑے نکالے اور صرف اپنے کام کو ہی دنیا داروں کی طرح سراہتار ہے اور اچھا سمجھتار ہے۔ہمیشہ یا درکھیں کہ چاہے انفرادی طور پر ہو یا جماعتی طور پر ہو جب بھی رشک اور سبق سیکھنے کی بجائے حسد کا جذبہ ہوگا وہ بے برکت ہوگا۔مومن ہمیشہ ایک دوسرے کا مددگار ہوتا ہے اور اس سے سبق لیتا ہے۔ان کے کاموں سے سبق لیتا ہے۔اچھائی دیکھ کر اس کی تعریف کرتا ہے اس کو اپنا تا ہے۔اگر کوئی کمی دیکھے تو اس کی پردہ پوشی کرنے والا ہوتا ہے۔اسی طرح UK کے جلسہ کے بعد جو میں نے کہا تھا کہ جرمنی والے اس طرف توجہ دیں۔میں نے انتظامات میں مزید بہتری کے لئے ، خاص طور پر رہائشی خیموں کی حفاظت کے تعلق میں بعض ہدایات دی تھیں ، ان پر بھی انہوں نے پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔بہر حال ہر شعبہ میں کارکنان اور کارکنات نے جن میں ایک تعداد بالکل نو عمر نو جوانوں کی اور بچوں اور بچیوں کی ہوتی ہے، یہاں بھی اور وہاں بھی اور دنیا میں ہر جگہ، ان سب نے بھر پور طور پر اپنے فرائض ادا کرنے کی کوشش کی ہے اور تمام کارکنان نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ہمارے اوپر جو بھی افسر خلیفہ وقت کی طرف سے مقرر ہوگا ہم نے اس کی ہر طرح اطاعت کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اسے مکمل تعاون دینا ہے۔اور یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم نے اپنے تمام کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتے ہیں اور یہ باتیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ ہم نے اپنے کام دنیا داروں کی طرح کسی خاص شخصیت کے کہنے یا اس کے تعلق کی وجہ سے نہیں کرنے بلکہ خلیفہ وقت کے اشارے پر چلتے ہوئے اپنے تمام تر فرائض سر انجام دینے ہیں۔پس میں ایک بار پھر جلسہ سالانہ جرمنی میں کام کرنے والے تمام کارکنان مرد و عورت کا شکر یہ ادا کرتا ہوں، بچیوں بچوں کا شکر یہ ادا کرتا ہوں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کا حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کی۔اس طرح ایم ٹی اے جرمنی کے کارکنان نے جلسے کی کوریج اور متفرق پر وگرام دکھانے اور بنانے کے لئے بھی بڑی محنت سے کام کیا ہے اور لندن