خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 385

385 خطبه جمعه فرموده 21 اگست 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اپنے جائزے لیتے ہوئے اس طرف دیکھیں تو ایک حقیقی احمدی خوفزدہ ہو جاتا ہے اور پھر بڑے درد کے ساتھ دعا کے لئے کہتے ہیں کہ دعا کریں یہ توجہ ہمیشہ قائم رہنے والی ہو اور نیک نیتی سے ہم اس پر دوام حاصل کرنے والے ہوں۔پس یہ بھی جماعت احمدیہ کی ایک خوبصورتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنی جماعت میں پیدا فرمایا ہے۔آپ علیہ السلام ایک جگہ اپنی جماعت کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ غور سے دیکھا جاوے تو جو کچھ ترقی اور تبدیلی (یعنی اخلاص اور وفا اور روحانیت میں ترقی مراد ہے ہماری جماعت میں پائی جاتی ہے وہ زمانے بھر میں اس وقت کسی دوسرے میں نہیں ہے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 536 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس یہ انتہا کا حسن ظن ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہم سے کیا ہے۔ایک حقیقی احمدی کو ہلا دینے والی بات ہے۔یہ ایک انتہائی خوف کی حالت پیدا کرنے والی چیز ہے۔اگر ہم ان فقرات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے جائزے لیتے رہیں تو ایک کے بعد دوسری نیکی کی طرف توجہ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ہم اپنی اصلاح کی طرف قدم بڑھاتے چلے جائیں گے۔دوسرا فائدہ جو ان جلسوں سے ہوتا ہے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضل جو خدا تعالیٰ جماعت پر فرمارہا ہے اس کو دیکھ اور سن کر پھر خدا تعالیٰ کے شکر کی طرف توجہ پھرتی ہے۔ایک احمدی کا سر ان فضلوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا چلا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم پر اپنے فضل برساتا رہے اور ہمیشہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اس کے شکر گزار بننے والے بندے کہلائیں۔جن جلسوں میں میں شامل ہوتا ہوں ، عموماً جلسوں کے بعد میں ان کا ذکر بھی کیا کرتا ہوں اور اس حوالے سے خدا تعالیٰ کے شکر کے ساتھ ساتھ کارکنان اور کارکنات کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں۔کارکنان کی بھی خواہش اور توقع ہوتی ہے کہ ان کا کچھ ذکر ہو۔اس لئے آج میں جرمنی کے جلسے کے حوالے سے بھی کچھ ذکر کروں گا۔ایک بات یہاں واضح کر دوں کہ ہمارے کارکنان اس لئے اپنے ذکر کی توقع اور خواہش نہیں رکھتے کہ صرف ان کی تعریف ہو۔یہ لوگ تو بے نفس ہو کر خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر کام کرنے والے ہیں اور جس جوش اور جذبے سے کام کرتے ہیں وہ کوئی دنیاوی اظہار کے لئے ، دنیاوی بدلے کے لئے نہیں کر سکتا۔اس لئے اگر ان کارکنان کے بارہ میں یہ سوچا جائے تو یہ ان پر بڑی سخت بدظنی ہوگی کہ شاید وہ اپنی تعریف کروانے کے لئے ذکر سننا چاہتے ہیں۔پس یہ خیال بالکل غلط ہے کہ کارکنان صرف اپنی تعریف سنا چاہتے ہیں۔ان کو ان کے نقائص اور کمزوریوں کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے تا کہ اصلاح ہو۔بلکہ ہمارے کارکنان تو خود اپنی کمزوریوں کو ایک لال کتاب میں لکھتے ہیں جو جلسہ کے لئے رکھی