خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 381 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 381

381 خطبه جمعه فرمود 14 اگست 2009 خطبات مسرور جلد هفتم آپ میں سے ہر ایک ہمیشہ یادر کھے کہ آپ پر اللہ تعالیٰ کے فضل جو مالی کشائش اور ذہنی سکون کی صورت میں ہیں یا آپ کسی بھی طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہیں یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہونے کی برکت کی وجہ سے ہے۔اس لئے ہمیشہ اپنے عہد بیعت کو وفا اور اخلاص سے نبھاتے چلے جائیں اور اپنی نسلوں کے ذہنوں میں بھی یہ بات راسخ کر دیں کہ آج تم جو کچھ بھی ہو جماعت کی وجہ سے ہو اس لئے جماعت اور خلافت سے کبھی اپنے تعلق کو کمزور نہ کرنا۔اللہ تعالی سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے۔بعض ایک دوا نتظامی باتیں بھی میں کہ دیتا ہوں۔آج کل جو دنیا کے حالات ہیں وہ ہر جگہ ہیں۔گو سیکیورٹی کا انتظام یہاں اس طرح تو نہیں کیا گیا جس طرح یو۔کے کے جلسہ سالانہ پر کیا گیا تھا۔لیکن ہر احمدی جو ہے وہ محتاط ہو۔ایک دوسرے کو اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے کو چیک کرے۔اسی طرح یہاں جو گیٹ پر سیکورٹی ہے ان کو بھی چیک کرنا چاہئے۔نظر رکھنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ جلسہ سالانہ ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور ہر ایک کو ہر قسم کی تکلیف اور پریشانی سے محفوظ رکھے۔اسی طرح سوائن فلو آج کل یورپ میں بھی پھیلا ہوا ہے۔امیر صاحب نے کہا ہے یہاں قانون کی وجہ سے اس طرح دوائی نہیں دی جاسکتی جس طرح انگلستان کے جلسے میں، برطانیہ کے جلسے میں ہر ایک کو ہم نے دی تھی لیکن کسی کو اگر شک ہو تو ہو میو پیتھ یہاں آئے ہیں ان سے بھی دوائی لے سکتے ہیں اور ان کو فوری طور پر ہسپتال سے بھی رجوع کرنا چاہئے۔اور اس وقت ایک افسوسناک خبر بھی ہے۔ہمارے بہت پیارے مخلص اور وفاشعار دوست مکرم طه قزق صاحب جو اردن سے تعلق رکھتے تھے۔دو دن پہلے ان کی وفات ہوگئی ہے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لَيْهِ رَاجِعُونَ - قزق صاحب حیفا کی معروف قزق فیملی سے تعلق رکھنے والے تھے۔ان کے والد حیفا میں دوسرے احمدی تھے جبکہ ان سے قبل رشدی بسطی صاحب احمدی ہو چکے تھے۔یہیں سے پھر احمدیت قریب کی بستی کہا بیر میں پھیلی اور 1928ء میں حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس وہاں پہلے مبلغ تھے۔طہ قزق صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب میرے والد احمدی ہوئے تو میں ابھی چھوٹا ہی تھا۔والد صاحب کی بہت مخالفت ہوئی تھی اور مولویوں کے کہنے پر بچے ان کو ٹماٹر اور گندے مالٹے مارا کرتے تھے۔کہتے ہیں ایک بار مخالفین نے والد صاحب کو اتنا مارا کہ وہ بیہوش ہو گئے۔مولوی لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔کیونکہ انہوں نے قرآن بدل دیا ہے۔قبلہ بدل دیا ہے۔تو یہ کہتے ہیں میں چھپ کر والد صاحب کو دیکھا کرتا تھا کہ کیا واقعی انہوں نے قرآن اور قبلہ بدل دیا ہے؟ مگر میں دیکھتا تھا کہ والد صاحب اسی طرح قرآن کی تلاوت کرتے ہیں جیسی پہلے کیا کرتے تھے اور اسی قرآن کی تلاوت کرتے تھے جس قرآن کی پہلے کیا کرتے تھے۔اسی طرح خانہ کعبہ کی طرف منہ