خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 350 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 350

350 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 عمومی سیکیورٹی اور ٹریفک وغیرہ کے انتظامات اللہ کے فضل سے بہت اچھے تھے اور آج کل جو دنیا کے حالات ہیں ، ہر ملک میں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے۔گزشتہ سال سے پولیس کو بلکہ دو سال پہلے جو شکایات اٹھی تھیں وہ گزشتہ سال سے دور ہونی شروع ہو گئی تھیں۔لیکن اس سال تو پولیس انسپکٹر نے لکھ کر دے دیا ہے اور کہا ہے کہ چاہے آپ اخبارات میں شائع کروا دیں کہ ٹریفک کی بہترین پابندی کی گئی اور بہترین ڈسپلن کا مظاہرہ کیا گیا جو ہمیں کہیں اور دیکھنے میں نظر نہیں آتا۔ایک غیر از جماعت مہمان نے یہ اظہار کیا کہ گو یہاں مین روڈ پر پولیس والے کھڑے تھے لیکن وہ بھی ٹریفک کنٹرول کرنے کے لئے باہر ہی کھڑے تھے جلسہ کے اندر یعنی حدیقۃ المہدی کے اندر نہیں آئے۔گو اس کی بھی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ایسے مجمع میں تو بے انتہا پولیس کی ضرورت پڑتی ہے اور پھر بھی کنٹرول نہیں ہوتا۔آلٹن کے میئر نے بھی یہی کہا ہے کہ جو میرے تحفظات تھے کہ شاید دوسری اسلامی تنظیموں کی طرح نہ ہوں سب دُور ہو گئے ہیں اور اب میں کھل کر یہ کہتا ہوں کہ آپ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو انتظامات کئے گئے ان میں جہاں کارکنوں نے بھر پور جذبے سے کام کیا وہاں مہمانوں نے بھی تعاون کیا۔خاص طور پر ٹرانسپورٹ کے سلسلے میں، اس سال ٹرین کا بھر پور استعمال ہوا اور یہ پسند بھی کیا گیا اور تقریباً سب نے اس بات کا بر ملا اظہار کیا کہ ہمیں جلسہ گاہ پہنچنے میں بڑی سہولت رہی اور اپنی کار میں آنے سے جو ذہنی تناؤ اور کوفت ہوتی ہے اس سے بھی ہم بچے رہے اور ٹریفک جام وغیرہ سے بھی جان چھوٹ گئی۔ایک بات جس کا اس مرتبہ مہمانوں نے میرے پاس اظہار کیا اور یہ بڑی اچھی بات ہے کہ امیر صاحب اور جلسے کی انتظامیہ کا شکر یہ ادا کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ رہائش گاہوں پر بار بار آ کر ہماری ضرورتوں کے بارے میں امیر صاحب بھی پوچھتے رہے اور انتظامیہ بھی پوچھتی رہی اور یہی نمونہ ہے جو ہمیشہ قائم بھی رہنا چاہئے اور دنیا کے باقی ممالک میں بھی انتظامیہ کو دکھانا چاہئے۔باہر کی دنیا میں بسنے والے احمدی یا بیمار اور مجبور احمدی جو جلسہ میں شامل نہیں ہو سکے ان کے بھی شکریہ کے بے شمار خطوط اور فیکسز آ رہی ہیں کہ ایم ٹی اے کا شکر یہ ادا کر دیں جنہوں نے ہمارے لئے یہ تمام پروگرام اور عالمی بیعت دیکھنے اور سننے اور شامل ہونے ممکن بنائے۔عربوں کی طرف سے بھی بے شمار پیغامات آئے ہیں کہ 24 گھنٹے جلسے کی کارروائی رہی اور ہمارے ایمانوں میں ایک عجیب روحانی تازگی پیدا ہوتی رہی۔تمام دنیا ایم ٹی اے کے تمام کارکنان اور کارکنات کا شکر یہ ادا کر رہی ہے۔بہر حال میں اپنی طرف سے بھی تمام کارکنان کام کرنے والے اور کام کرنے والیاں جو ہیں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے کسی بھی رنگ میں جلسے کے مہمانوں کی خدمت کی اور جلسے کے مہمانوں کا بھی شکریہ کہ انہوں نے بعض کمیوں اور کمزوریوں کو دیکھتے ہوئے بھی صرف نظر کیا۔