خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 347
347 خطبہ جمعہ فرمودہ 31 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اس دفعہ مجھے اکثر ملنے والوں نے یہی کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتظامات گزشتہ سالوں کی نسبت بہت اچھے تھے۔تمام کارکنان اور کارکنات پہلے سالوں کی نسبت زیادہ مستعد اور اچھے اخلاق سے پیش آنے والے تھے۔ہر شعبے نے اپنے فرائض کو اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق احسن رنگ میں ادا کرنے اور مہمانوں کی مہمان نوازی کے لئے اپنی تمام تر طاقتیں صرف کرنے کی کوشش کی۔اس پر مہمانوں کو بھی بہت زیادہ شکر گزار ہونا چاہئے۔میں جلسہ گاہ میں آتے جاتے بعض نوجوانوں اور لڑکوں کے چہرے دیکھا کرتا تھا تو صاف ظاہر ہورہا ہوتا تھا کہ نیند کی کمی ہے اور تھکاوٹ کی شدت ہے۔لیکن پھر بھی بڑی مستعدی سے اپنے کام پر کھڑے تھے۔بلکہ میرے علم میں آیا کہ جلسے کے دنوں میں ایک شعبے کے ناظم اور ناظمہ جو بہن بھائی تھے، وہ بے آرامی کی وجہ سے مستقل ڈیوٹی کی وجہ سے اور پھر انہوں نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا، کھانا نہیں کھایا یا رات کو کم کھانا کھایا تھا، بہر حال اس کی وجہ سے بیہوش ہو گئے۔لگتا ہے یہ بہن بھائی ارادہ کر کے آئے تھے کہ کس حد تک ہم اپنے آپ کو مشقت میں ڈال سکتے ہیں تا کہ ایک لمحہ بھی خدمت کا ضائع نہ ہو۔لیکن یہ غلط چیز ہے۔اس مشقت کی وجہ سے بیہوش ہوئے اور ڈاکٹری حکم کے مطابق ان کو پھر اس خدمت سے محروم ہونا پڑا اور آخری دن وہ ڈیوٹی نہیں دے سکے۔تو اس لحاظ سے بھی اپنا خیال رکھنا چاہئے اور انتظامیہ کو بھی جو ان کے ناظمین یا افسران ہوتے ہیں خیال رکھنا چاہئے کہ کچھ نہ کچھ آرام کا وقت بھی دیا کریں اور ان کے کھانے پینے کا بھی خیال رکھا کریں۔یہ بے لوث خدمت کے جذبوں کی بہت سی مثالیں ہیں جو ہمیں ڈیوٹی کے حوالے سے جلسہ کے دنوں میں نظر آتی ہیں۔عجیب عجیب روحیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائی ہیں۔ان ڈیوٹی دینے والوں میں ایشین بھی تھے، یہاں کے مقامی انگریز لوگ بھی تھے، یہاں بسنے والے افریقن ممالک سے آئے ہوئے لوگ بھی تھے۔گویا جس طرح جلسہ سننے والے ملٹی نیشنل تھے ، ڈیوٹیاں دینے والے بھی مختلف قومیتیوں کے تھے۔پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت پر فضل۔بچے ہیں تو انہوں نے اپنی ذمہ داری کو جو اُن کے سپرد کی گئی تھی ، پانی پلانے کی یا کھانا کھلانے کی یا کسی بھی کام کرنے کی ، بڑے احسن رنگ میں ادا کیا۔بڑے ہیں تو انہوں نے احسن رنگ میں ادا کیا۔نوجوان ہیں، لڑکیاں ہیں عورتیں ہیں سب نے اپنے اپنے فرائض کو بڑی خوبی سے ادا کیا۔اس سال حکومتی ادارے کی طرف سے ہیلتھ اینڈ سیفٹی (Health & safety) کی طرف خاص توجہ دینے کے لئے کہا گیا تھا۔اس کے لئے بھی ایک نیا شعبہ قائم کیا گیا اور مختلف مواقع پر اس شعبے کو اس سے متعلقہ حکومتی نمائندے چیک بھی کرتے رہے۔اسپیشن (Inspection) کے لئے آتے رہے۔کیونکہ ہیلتھ اینڈ سیفٹی جلسہ سالانہ کے ہر شعبہ سے بھی تعلق رکھتی ہے اور جلسہ گاہ سے بھی تعلق رکھتی ہے۔مہمانوں سے متعلق معاملات بھی ہیں اور کارکنوں سے متعلق بھی۔اس لئے فکر تھی کہ کہیں کوئی کمی نظر آئی تو ان کو بہانہ مل جائے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ کے انتظامات ان کے معیار کے مطابق تھے۔