خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 339
339 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 24 گھنٹوں میں صرف 2 گھنٹے سونے کا موقع ملتا ہے اور بشری تقاضے کے تحت اگر ایسی حالت میں کوئی کسی بات پر کسی مہمان کو تسلی بخش جواب نہ دے یا اس کے خیال میں اس کی مہمان نوازی کا حق ادا نہ ہورہا ہو تو مہمان کو بھی صرف نظر کرنا چاہئے اور کارکن کو معاف کرنا چاہئے۔اکثریت تو UK کے رہنے والے مہمانوں کی ہے جو مختلف شہروں سے آئے ہیں اور یہاں جیسا کہ میں نے کہا ساری دنیا سے مہمان آرہے ہوتے ہیں۔احمدی بھی اور غیر از جماعت بھی۔اگر کوئی کارکن مقامی مہمان کو چھوڑ کر باہر سے آنے والے مہمان کی طرف زیادہ توجہ دے دے، جو دینی چاہئے، تو پھر مقامی مہمانوں کو برانہیں منانا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہونے کا نمونہ بھی یعنی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان بنے تو آپ نے کیا نمونہ پیش کیا وہ بھی ہمارے سامنے ہے اور یہ نمونے آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مرتبہ کسی سفر پر تھے، کام میں مصروف تھے اور اس وجہ سے آپ نے رات کا کھانا نہیں کھایا۔رات گئے بھوک کا احساس ہوا تو آپ نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو سب کام کرنے والے پریشان تھے کہ کھانا تو جتنے وہاں لوگ آئے ہوئے تھے کام کرنے والے تھے سب کھا چکے ہیں اور کچھ بھی نہیں بچا۔رات بازار بھی بند تھے کہ کسی ہوٹل سے کھانا منگوالیا جاتا۔حضور علیہ السلام کے علم میں جب یہ بات آئی کہ کھانا ختم ہو گیا ہے اور سب انتظام کرنے والے پریشان ہیں کہ کھانا فوری طور پر جلدی جلدی پکانے کا انتظام کیا جائے۔آپ نے فرمایا پر یشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔دیکھو دستر خوان پر روٹی کے کچھ بچے ہوئے ٹکڑے ہوں گے وہی لے آؤ۔چنانچہ آپ نے ان ٹکڑوں میں سے ہی تھوڑا سا کھا لیا اور انتظام کرنے والوں کو تسلی کروائی۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اگر حضور علیہ السلام اُس وقت کھانا پکانے کا حکم دیتے تو ہمارے لئے یہ باعث عزت ہوتا اور ہم اس بات پر فخر محسوس کرتے اور اسی میں برکت تھی۔لیکن آپ نے ہماری تکلیف کا احساس کرتے ہوئے روک دیا کہ کوئی ضرورت نہیں۔(ماخوذ از سیرت حضرت مسیح موعود از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه (333) پس یہ نمونے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والوں کو بھی دکھانے چاہئیں۔مجھے جلسے کے دنوں میں بھی اور ویسے بھی بعض لنگر خانوں کی شکایات ملتی رہتی ہیں اور جب تحقیق کرو تو اتنی لا پرواہی مہمان کے بارہ میں نہیں برتی گئی ہوتی جتنا بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ٹھیک ہے مہمان کے جذبات ہوتے ہیں ان کا خیال رکھنا چاہئے۔لیکن مہمانوں کو بھی اصل حقائق بیان کرنے چاہئیں۔ربوہ میں تو اب جلسے نہیں ہوتے جب جلسے ہوا کرتے تھے تو اس وقت وہاں بھی شکایات پیدا ہوتی تھیں۔اب ربوہ میں دارالضیافت جو لنگر خانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے وہاں ابھی بھی با قاعدہ پلنگر چلتا ہے۔اگر کبھی انتظامیہ سے غلطی ہو جائے تو احمدی مہمان وہاں بھی بہت زیادہ زود رنجی کا اظہار کرتے ہیں۔باوجود اس کے کہ اکثر انتظامیہ ان لوگوں سے