خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 323
323 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 17 جولائی 2009 پہلے اور بعد میں بیان ہورہا ہے اس کا براہ راست اس مہمان نوازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔لوظ کی طرف جانے والے لوگ تھے جو اس قوم کے غلط کاموں کی وجہ سے انہیں عذاب کے آنے کے وقت کی خبر دینے کے لئے جارہے تھے اور راستے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس رکے۔ان کو بھی لوط کی قوم پر آنے والے عذاب کی اطلاع دی اور ساتھ ہی ایک اولاد کی خوشخبری بھی سنائی۔پس یہاں اس مہمان نوازی کا ذکر کر کے ایک اعلیٰ وصف کو بیان کیا گیا ہے کہ باوجود اس کے کہ ان لوگوں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام واقف نہیں تھے ، جان پہچان والے نہیں تھے لیکن کیونکہ ظاہر بات ہے کہ اس وقت اس جنگل میں سفر کرنے والے تھے ، مسافر تھے ، اور ان کو یہ احساس ہوا کہ بشری تقاضے کے تحت بھوک بھی محسوس کر رہے ہوں گے اس لئے آپ نے فورا اس خیال سے کہ ان کو بھوک لگی ہوگی بغیر کسی سوال کے کہ کھائیں گے یا نہیں کھائیں گے، ضرورت ہے یا نہیں ہے ان کے لئے مہمان نوازی کرنے میں مصروف ہو گئے۔پس یہ وصف ایسا ہے جو خدا کو پسند ہے اور اسلام کا بھی یہ خاصہ ہے۔آنحضرت عیہ تو نبوت سے پہلے ہی اس خوبی سے اتنے زیادہ متصف تھے کہ یہ آپ کا امتیازی نشان تھا۔عربوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ بڑے مہمان نواز ہوتے ہیں اور یہ بیج بات بھی ہے اور اُس زمانہ میں اور اب بھی عرب مہمان نواز ہیں۔لیکن آنحضرت مے کا تو یوں لگتا ہے کہ یہ مہمان نوازی کرنا ایک خاص شان رکھتا تھا۔تبھی تو جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی ہے تو آپ بڑی گھبراہٹ میں اپنے گھر تشریف لائے۔اور جب حضرت خدیجہ کے سامنے اس وحی کے نازل ہونے کا ذکر کیا تو اس وقت بھی آپ پر بڑی گھبراہٹ طاری تھی۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو جو تسلی کے الفاظ کہے وہ یہ تھے کہ للہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا کیونکہ آپ رشتہ داری کے تعلقات کا پاس رکھتے ہیں۔لوگوں کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہیں اور وہ اخلاق حمیدہ جو دنیا سے ختم ہو چکے ہیں ان کو قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔مصیبت زدوں کی مدداور حمایت کرتے ہیں۔تو ان اوصاف کے مالک کو خدا کس طرح ضائع کر سکتا ہے۔( صحیح بخاری باب بدء الوحی باب نمبر 3 حدیث نمبر 3) اب ان تمام اعلیٰ اوصاف کے ساتھ مہمان نوازی کا ذکر کرنا یقیناً اس بات کی تصدیق ہے کہ آپ کا مہمان نوازی کا معیار اس قدر بلند تھا کہ جو دوسروں کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا تھا اور نبوت کے دعوے کے بعد تو یہ مہمان نوازی ایک ایسی اعلیٰ شان رکھتی تھی کہ جس کی مثال ہی کوئی نہیں ہے۔اس بارہ میں آپ کے اُسوہ حسنہ کو دیکھیں تو صرف وہاں یہ نہیں ہے کہ سلامتی بھیجنے کی باتیں ہو رہی ہیں بلکہ کھانے پینے کی مہمان نوازی کے علاوہ بھی یا استقبال کرنے کے علاوہ بھی ایسے ایسے واقعات ملتے ہیں جن کے معیار اعلیٰ ترین بلندیوں کو چھورہے ہیں۔