خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 318

خطبات مسرور جلد هفتم 318 خطبہ جمعہ فرمودہ 10 جولائی 2009 ہ خاتم الانبیاء ہیں اور حضرت عیسی کو نبوت کا شرف پہلے سے حاصل ہے تو کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ پھر آئیں اور اپنی نبوت کھو دیں۔پہلی بات تو یہ کہ جب آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں تو یہ نہیں ہو سکتا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام جن کو پہلے نبوت مل چکی تھی اللہ تعالیٰ ان کا پہلا اعزاز چھین کر آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ان کو دوبارہ اس دنیا میں بھیجے اور وہ اپنی پہلی نبوت کو چھوڑ کر آنحضرت ﷺے جن کی مہر کے نیچے کسی اور کو نبوت مل سکتی ہے ، کی نبوت کے آخر میں پھر آئیں۔تو فرمایا کہ اگر وہ دوبارہ آئیں گے تو اپنی نبوت کھو دیں گے۔جو پہلے اللہ تعالیٰ نے ان کو اعزاز دیا تھا وہ ضائع ہو جائے گا۔کیونکہ اب ان کو بہر حال آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنی پڑے گی اور یہ ممکن نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نہیں ہے۔فرمایا کہ یہ آیت آنحضرت ﷺ کے بعد مستقل نبی کو روکتی ہے۔البتہ یہ امر آنحضرت ﷺ کی شان کو بڑھانے والا ہے کہ ایک شخص آپ ہی کی امت سے آپ ہی کے فیض سے وہ درجہ حاصل کرتا ہے جو ایک وقت مستقل نبی کو حاصل ہو سکتا تھا۔لیکن اگر وہ خود ہی آئیں تو پھر صاف ظاہر ہے کہ پھر اس خاتم الانبیاء والی آیت کی تکذیب لازم آتی ہے اور خاتم الانبیاء حضرت مسیح ٹھہریں گے اور آنحضرت ﷺ کا آنا بالکل غیر مستقل ٹھہر جاوے گا کیونکہ آپ پہلے بھی آئے اور ایک عرصہ کے بعد آپ رخصت ہو گئے اور حضرت مسیح آپ سے پہلے بھی رہے اور آخر پر بھی وہی رہے۔(اگر یہ مانا جائے کہ حضرت عیسی نے آتا ہے تو آنحضرت ﷺ کے خاتم النبین ہونے کو یہ بات جھلاتی ہے۔کیونکہ آنحضرت ﷺ تو آئے، دنیا میں اپنا مشن پورا کیا اور وفات پاگئے۔جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام پہلے بھی آئے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو جسم کے ساتھ اٹھالیا اور پھر دوبارہ نبوت کے ساتھ بھیجے گا )۔غرض اس عقیدے کے ماننے سے کہ خود ہی حضرت مسیح آنے والے ہیں بہت سے مفاسد پیدا ہوتے ہیں اور ختم نبوت کا انکار کرنا پڑتا ہے جو کفر ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 96 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ رسولکر یم ہی ہے کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہر گز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت ﷺ نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لا نبی بعدی ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ وَلَكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ (الاحزاب : 41) سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی الحقیقت ہمارے نبی ﷺ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت مہ کے بعد تشریف لاوے۔اس سے تو تمام تار و پودا اسلام درہم برہم