خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 309 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 309

خطبات مسرور جلد هفتم 309 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جیسا کہ میں نے کہا فرمایا کہ قرآن کریم اول سے آخر تک اسی بات سے بھرا پڑا ہے۔تمیس (23) آیات درج فرمائی ہیں۔جہاں تو فی کا لفظ استعمال ہوا ہے اور وہاں وفات ہی مراد لی گئی ہے۔پھر ازالہ اوہام میں ہی ایک جگہ آپ نے 30 آیات سے ثابت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے ہیں۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 438-423) غرض کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک وسیع لٹریچر چھوڑا ہے جس میں قرآن و حدیث سے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات ثابت کی ہے۔سو یہ مسلمانوں کے لئے بڑے کھلے کھلے اور واضح ثبوت ہیں۔دلیل کے ساتھ۔اور عیسائیوں کے لئے ان کی کتاب سے حضرت عیسی کا انسان ثابت کر کے اللہ تعالیٰ کا مقرب بندہ ہونے کی حیثیت سے ان کے رفع روحانی کو ثابت کیا ہے، نہ کہ خدایا خدا کا بیٹا ہونا۔جس نے عیسائیت کو شرک میں مبتلا کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو بھی عقل دے کہ حضرت عیسی کے زندہ آسمان پر ہونے اور کسی وقت نازل ہونے کا ان کا جو باطل اور جھوٹا نظریہ ہے اس سے توبہ کر کے ، مسیح محمدی جو عین اپنے وقت پر مبعوث ہوا اس کی پیروی کریں اور آنحضرت ﷺ کی بات کو پورا کرتے ہوئے اس تک آپ کا سلام پہنچائیں اور اس کی وجہ سے پھر وہ اپنی دنیا و عاقبت سنوار نے والے بنیں گے۔احمدی بھی یا درکھیں کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی کتب ہی ہیں جو حق و باطل کے معر کے میں دلائل و براہین سے دشمن کا منہ بند کرنے والی ہیں۔یہ اقتباسات جو میں نے پڑھے ہیں اس معاملے میں چند ایک ہیں۔بے شمار ہیں، کئی گھنٹے لگ جائیں گے اگر ان کو پڑھنا شروع کیا جائے تو۔اس میں حضرت عیسی کی وفات اور روحانی رفع کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے علاوہ اور مضامین کے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ خیال ہوتا ہے۔یہاں جو اٹھان اٹھی ہوئی ہے اس ماحول میں زیادہ رچ بس گئے ہیں کہ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب بہت مشکل ہیں اس لئے اس کی بجائے اپنے طور پر اپنے لوگوں کے لئے جو یہاں پڑھے لکھے لوگ ہیں ان کے لئے لٹریچر بنانا چاہئے۔بے شک اپنا لٹریچر پیدا کرنا چاہئے لیکن اس کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب واقوال پر ہی ہو گی اور کلام پر ہی ہو گی۔لیکن یہ کہنا کہ یہ مشکل ہے اس لئے براہ راست یہاں ان ملکوں کے لوگ جو ہیں یا بچے جو ہیں یا نوجوان جو ہیں وہ لٹریچر یا کتب پڑھ نہیں سکتے یہ صرف پاکستان یا ہندوستان کے لئے کتب لکھی گئی تھیں۔یہ غلط سوچ ہے۔نوجوانوں اور بچوں کو بھی اس کے پڑھنے کی ترغیب دی جانی چاہیئے اور یہ بڑوں کا کام