خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 301
301 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم پس جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے کلام سے ظاہر ہے جس کا بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اس اقتباس میں فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ باوجود دُور ہونے کے انسان کے ہر وقت ساتھ ہے باوجود عرش پر بیٹھنے کے انتہائی قریب ہے۔کوئی جگہ نہیں جہاں خدا موجود نہ ہو۔بلکہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو انسان کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اور جو اس کے مقرب ہیں ان میں اس کی صفات زیادہ روشن نظر آتی ہیں اور ان میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔وہ ان کو اپنی قربت کا احساس دلاتا رہتا ہے۔اپنی قربت کا پتہ دیتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں ہر دشمنوں سے بھی بچاتا ہے اور ان کے درجات بھی بلند فرماتا ہے۔لیکن اس کے باوجود جیسا کہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عرش بہت بلند ہے جس تک کسی انسان کی پہنچ نہیں۔اس مضمون کو ایک دوسری جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ (الرعد: 3) - تمہارا خداوه خدا ہے جس نے آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کیا جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو اور پھر اس نے عرش پر قرار پکڑا۔اس آیت کے ظاہری معنی کی رو سے اس جگہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پہلے خدا کا عرش پر قرار نہ تھا اس کا یہی جواب ہے کہ عرش کوئی جسمانی چیز نہیں ہے بلکہ وراء لوری ہونے کی ایک حالت ہے جو اس کی صفت ہے پس جبکہ خدا نے زمین و آسمان اور ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور ظلمی طور پر اپنے نور سے سورج چاند اور ستاروں کو نور بخشا اور انسان کو بھی استعارے کے طور پر اپنی شکل پر پیدا کیا اور اپنے اخلاق کریمہ اس میں پھونک دیئے تو اس طور سے خدا نے اپنے لئے ایک تشبیہ قائم کی مگر چونکہ وہ ہر ایک تشبیہ سے پاک ہے اس لئے عرش پر قرار پکڑنے سے اپنے تنزہ کا ذکر کر دیا، یعنی کہ بہت بلندی اور ہر عیب سے پاک ہونے کا ذکر کر دیا۔خلاصہ یہ فرمایا ” خلاصہ یہ کہ وہ سب کچھ پیدا کر کے پھر مخلوق کا عین نہیں بلکہ سب سے الگ اور وراء الورای مقام پر ہے۔چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحه 277 ) وہ مخلوق کی طرح نہیں ہے وہ باوجود اس کے کہ اس نے صفات بھی دی ہے۔پیدا بھی کیا انسان کو بہت اپنی صفات سے رنگین کیا بلکہ حکم دیا کہ اللہ کی صفات کا رنگ اختیار کرو۔لیکن اس کے باوجود وہ بہت بلند مقام پر ہے۔بلند شان والا ہے۔پس یہ ہے ہمارا خدا جو تمام صفات کا حامل ہے، رفیع الدرجات ہے۔عرش کا مالک ہے اور اس کے اس مقام کے باوجود اس کے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے فرماتا ہے میں شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہوں اور با وجود شہ رگ سے زیادہ قریب ہونے کے انسان کی نظر اس تک نہیں پہنچ سکتی۔بلکہ وہ خود اپنا جلوہ دکھاتا ہے اپنے مقربین کو۔جیسا وہ فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارُ (انعام: 104 ) یعنی نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں