خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 302
302 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 اور وہ انسان کی نظر تک پہنچتا ہے۔انسان نہ ہی اپنے علم کے زور سے اور نہ ہی اپنے رتبے اور مقام کی وجہ سے اس کو دیکھ سکتا ہے۔بلکہ اللہ تعالیٰ خود اپنا اظہار فرماتا ہے۔پس خدا وہ ہے جو پردہ غیب میں ہے اور کبھی بھی کسی رنگ میں بھی اس کے مادی وجود کا تصور قائم نہیں ہو سکتا۔جبکہ عیسائیوں نے اپنے غلط عقیدے کی وجہ سے حضرت عیسی علیہ السلام کو جو خدا تعالیٰ کے ایک برگزیدہ نبی تھے خدائی کا مقام دے دیا۔خدا تعالیٰ کا مقام تو بہت بلند اور ہر عیب سے پاک ہے۔اس کو کسی کی حاجت نہیں جبکہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ وہ اور ان کی والدہ کھانا کھایا کرتے تھے۔جہاں اس بات سے ان دونوں کے فوت ہونے کا پتہ چلتا ہے، وفات کا پتہ چلتا ہے وہاں یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جس کو کھانے کی حاجت ہو، اپنی زندگی قائم رکھنے کے لئے وہ خدا کس طرح ہو سکتا ہے۔دوسروں کی حاجات کس طرح پوری کر سکتا ہے اور اس طرح بے شمار با تیں ہیں اور دلیلیں ہیں جو ان کو ایک انسان ثابت کرتی ہیں۔احمدیوں کے علاوہ یعنی احمدیوں کو چھوڑ کر مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعدا د لاعلمی کی وجہ سے یا اپنے علماء کے پیچھے چل کر جن کو قرآن کریم کا صحیح فہم و ادراک نہیں قرآن کریم میں حضرت عیسی کے بارے میں جو الفاظ آئے ہیں رَافِعُكَ إِلَيَّ ( آل عمران : 56) يَارَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ( النساء: 159) یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف ان کا رفع کر لیا۔اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ گویا حضرت عیسی اپنے جسم کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے یا خدا تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا اسی جسم کے ساتھ اور کسی وقت پھر دنیا کی اصلاح کے لئے اتریں گے وہ۔پہلے چودھویں صدی میں آنا تھا۔اب وہ گزرگئی تو قیامت کے قریب آنے کا کہا جاتا ہے یا اور بہت ساری کہانیاں بیان کی جاتی ہیں۔تو بہر حال مسلمان نہیں جانتے کہ غیر ارادی طور پر اس غلط استنباط سے وہ عیسائیوں کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔کیونکہ اس بات کو لے کر عیسائی جو ہیں وہ حضرت عیسی کی فوقیت آنحضرت ﷺ پر ثابت کرتے ہیں۔گو کہ اب بعض علماء اور بعض پڑھا لکھا طبقہ جو ہے بعض ملکوں میں، مسلمان ملکوں میں اس غلط مطلب کی اصلاح کرتے ہوئے یہ مانتے ہیں کہ ان آیات میں جو نئے الفاظ استعمال ہوئے ہیں سے یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے۔گزشتہ دنوں ایران کے صدر صاحب نے بھی ایک بیان دیا تھا جس میں انہوں نے عیسائیوں کو مخاطب کر کے جو بیان تھا اس سے یہی لگتا تھا کہ ان کے ذہن میں یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام وفات پاگئے ہیں۔یا کم از کم وہ یہ سمجھتے ہیں۔اس بیان میں انہوں نے حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی کوئی برائی نہیں بیان کی تھی بلکہ ان کی تعلیم کے حوالے سے عیسائیوں کو نصیحت کی تھی۔قطع نظر اس کے کہ یہ صدر صاحب خود کس حد تک راہ ہدایت پر قائم ہیں ، ہمیں صرف اتنا ہی کہنا چاہتا ہوں کہ ان کے ذہن میں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے فوت ہونے کا تصور ہے جو ان کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے۔اسی طرح ترکی میں ہمارے جو مبلغ ہیں جلال شمس صاحب، یہیں رہتے ہیں انہوں نے بتایا خر کی میں جو قرآن کریم کے نئے تراجم شائع ہورہے ہیں ان میں سے کئی قرآن کریم کے تراجم میں اب انہوں نے ان آیات کا ترجمہ