خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 300
خطبات مسرور جلد ہفتم 300 (27) خطبہ جمعہ فرمودہ 3 جولائی 2009 فرمودہ مورخہ 03/ جولائی 2009 ء بمطابق 03 روفا1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: رفع ایک لفظ ہے، گزشتہ دو تین خطبوں سے یہ ہی بیان کر رہا ہوں اس کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں۔یہ مادی چیزوں کی بلندی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ناموری اور شہرت کا ذکر بلند کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور جیسا کہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو اکرافِع ہے جو ہر قسم کی بلندیوں کو عطا کرتی ہے۔اس بات کا ، اس صفت کا ہمیں گزشتہ خطبوں میں ذکر بھی کر چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ جہاں رافع ہے جو بلندیاں عطا فرماتا ہے وہاں وہ خود بھی اُن بلندیوں پر ہے جن کا احاطہ انسانی عقل نہیں کر سکتی۔وہ باجود قریب ہونے کے دُور ہے اور باوجود ہر جگہ موجود ہونے کے بہت بلند ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے رَفِيعُ الدَّرَجَات کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ کا قدر و مرتبت اور ہر لحاظ سے بہت بلندشان ہونا۔اللہ تعالیٰ کے درجات کی بلندی سب صفات کا وہ اعلیٰ ترین مقام ہے جن کا نہ صرف یہ کہ انسانی سوچ احاطہ نہیں کر سکتی بلکہ اس سے اور بلند مقام کوئی ہو ہی نہیں سکتا اور اس وجہ سے وہ ربّ العرش بھی ہے۔ایک انتہائی بلند مقام پر بیٹھا ہوا ہے لیکن صرف عرش پر بیٹھ کر معاملات حل نہیں کر رہا۔بلکہ ہر جگہ موجود بھی ہے جیسا کہ میں نے کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عرش الہی ایک وراء الوری مخلوق ہے۔( یعنی بہت دُور اور بلندی پہ چیز ہے جہاں تک نظر نہیں پہنچ سکتی۔جو زمین سے اور آسمان سے بلکہ تمام جہات سے برابر ہے۔یہ نہیں کہ نعوذ باللہ عرش الہی آسمان سے قریب ہے اور زمین سے دور ہے۔( فرمایا ) لعنتی ہے وہ شخص جو ایسا اعتقا در کھتا ہے ( کہ ایسا عرش ہے جو آسمان سے بھی قریب ہے اور زمین سے بھی قریب ہے۔فرمایا کہ عرش مقام تنزیہیہ ہے۔(یعنی ہر ایک سے پاک چیز ہے ) اور اسی لئے خدا ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے هُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُم (الحدید : 5 ) ) کہ تم جہاں بھی جاؤ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے ) اور ( پھر فرماتا ہے ) مَا يَكُونُ مِنْ نَّجْوَى ثَلَثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمُ (المجادلہ: 8 ) ( کوئی تین آدمی علیحدہ مشورہ کرنے والے نہیں ہوتے جبکہ ان میں وہ چوتھا ہوتا ہے۔) اور (پھر) فرماتا ہے کہ نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ (ق: 17) اور ہم اس سے یعنی انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں۔) ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 491 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )