خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 296 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 296

296 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ایک کسی نے مجھے لکھا کہ جب پہلا جلسہ ہوا اسلام آباد میں۔اس میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع کا، یہ جلسہ میں میٹھی ہوئی تھیں جلسہ کے بعد وہیں پیغام ملا۔جو ان کے ساتھ ڈیوٹی پر خاتون تھیں ان کو کہ ان کو لے کر حضرت خلیفہ مسیح الرابع بلا رہے ہیں فوراً آؤ۔تو کہتی ہیں انہوں نے سن لیا اور ان کے تیار ہونے سے پہلے ہی اٹھ کے چل پڑیں اور بڑی تیزی سے اتنا چلیں کہ جو ڈیوٹی والی خاتون تھیں ان کو ساتھ دوڑنا پڑ رہا تھا اور یہ کہتیں جلدی کر حضور کا پیغام آیا ہے مجھے بلا رہے ہیں۔تو یہ بھی ایک تربیت تھی ، اپنے باپ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی بھی اور اپنے نانا کی وہ مثال بھی سامنے تھی جس طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بلاوے پر فور دوڑ پڑے تھے بغیر کچھ لئے۔پھر میرے سے ایک تعلق تھا ان کا۔یہ تعلق بھانجے سے زیادہ اس وقت شروع ہوا، میری خالہ تھیں۔جب حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ناظر اعلیٰ اور امیر مقامی مقرر کیا پاکستان میں، ربوہ میں، تو پہلی مرتبہ جب یہ امریکہ سے آئی ہیں تو میں حیران رہ گیا ان کے تعلق کو دیکھ کر اور شرمندہ بھی ہوتا تھا، ایک احترام جماعتی عہدیدار کا اور عزت ایسی تھی جو بالکل مختلف تھی ہر قسم کے رشتوں سے۔بالکل مختلف رویہ تھا ان کا اور یہ ان کی سیرت کا پہلو مجھ پر اس وقت کھلا کہ یہ کس طرح احترام کرتی ہیں عہدیداران کا۔خلافت کے بعد تو پھر یہ تعلق اور بھی بڑھا۔جب میں غور کرتا ہوں حضرت خلیفتہ اسیح الرابع اور حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کے زمانہ میں بھی دیکھا ہے میں نے ان کے ساتھ تعلق ان کا اور اپنے ساتھ جب دیکھتا ہوں، کوئی فرق مجھے نظر نہیں آتا۔وہی عزت وہی احترام۔معمولی سا بھی فرق کہیں نظر نہیں آیا۔اتنا ادب اور احترام کہ بعض دفعہ شرمندگی ہوتی تھی۔امریکہ گیا ہوں تو جماعتی پروگرام کی وجہ سے بعض مجبوریاں تھیں اس لئے مشن ہاؤس میں ٹھہر نا پڑا۔مسجد کے ساتھ۔پہلے اس بات پر زور دیا تھا انہوں نے جانے سے پہلے کہ ان کے ہاں ٹھہروں۔لیکن بہر حال مجبوری تھی اس کی وجہ سے معذرت کرنی پڑی۔پھر جب ان کو ملنے گیا ان کے گھر تو ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی اور آپ کے اس تعلق کی وجہ سے ہی آپ کے اس لے پالک بیٹے اور بھانجے اور بہو کا اور بچوں کا خلافت سے بھی ایک خاص تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا بھی بڑا وسیع مطالعہ تھا۔کسی نے مجھے بتایا کہ 7 مرتبہ انہوں نے ہر کتاب پڑھی تھی لیکن ظاہر احمد نے مجھے بتایا کہ انہوں نے مجھے کہا کہ میں 9 مرتبہ یہ کتابیں پڑھ چکی ہوں۔بیماری میں بھی ،گزشتہ ایک ماہ سے بیمار تھیں ان دنوں میں بھی ایک دو دفعہ فون پر بات ہوئی ہے تو ظاہر نے بتایا کہ ایک دفعہ فون پر بات کرنے سے پہلے وہ کوشش کر رہے تھے کچھ کھانا کھا لیں۔لیکن کھا نہیں رہی تھیں۔فون پر بات کرنے کے بعد اس نے کہا کہ اب تو آپ کی بات ہو گئی ہے، میرا حوالہ دیا ان کوتو کھانا کھا لیں۔خیر کہتا ہے میں دوسرے کاموں میں مصروف ہو گیا۔تھوڑی دیر بعد دیکھا تو کھانا جو پلیٹ میں رکھا ہوا تھا ختم تھا اور صرف اس لئے کہ اس نے حوالہ یہ دیا تھا کہ آپ کی بات ہوگئی ہے میرا اس سے لیکن میرا یہ خیال ہے کہ اس نے کہا ہوگا کہ انہوں نے کہا ہے، ذرا اونچا سنتی تھیں اس لئے فون پر سیج سمجھ نہیں آئی ہوگی۔ظاہر کی بات سے انہوں نے یہی سمجھا کہ انہوں نے