خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 295 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 295

295 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم حضرت خلیفہ مسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لجنہ امریکہ کی مشاورتی کمیٹی کا خاص نمائندہ مقر رفرمایا تھا اور تاحیات آپ اس پہ قائم رہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے آخر تک آپ کا ذہن بالکل صاف رہا۔تقریباً 92 سال کی عمر تھی۔لیکن ذہنی طور پر بالکل ایکٹو (active) تھیں۔حضرت مصلح موعود کے پرانے واقعات اور باتیں سناتی رہا کرتی تھیں۔بہت غریب پرور تھیں، چھپ کر بھی غریبوں کی مدد کرنا۔اعلامیہ بھی مددکرنا کئی بیواؤں اور تیموں کو مستقل مدد کرتی رہتی تھیں۔اور پھر جماعت سے باہر بھی اور ملکی اور بین الاقوامی چیریٹیز (Charities) جو ہیں ان میں بھی صدقات دیا کرتی تھیں۔نمازوں میں بڑا خشوع و خضوع ہوتا تھا۔جو ظاہری نمازیں ہیں۔نوافل تو چھپ کے انسان پڑھتا ہے دوسری نماز میں نظر آ جاتی ہیں، کئی دفعہ مجھے بھی دیکھنے کا موقع ملا، بڑے جذب اور خشوع سے نمازیں پڑھ رہی ہوتی تھیں۔اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق تھا ان کا۔فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ (المومنون : 3 ) کی مثال تھیں۔اور پھر لغویات سے بھی بچنے کی کوشش کرتی تھیں۔اس پر بھی عمل کرتی تھیں۔عاجزی انکساری بہت تھی ان میں باوجود اس کے کہ مرزا مظفر احمد صاحب پاکستان میں بڑے اچھے عہدوں پر رہے، ورلڈ بینک میں بھی رہے۔لیکن آپ کے ہاں جانے والے، ملنے والے ان کو جس طرح وہ خود ملتے تھے مرزا مظفر احمد صاحب بھی اور آپ بھی بڑی عاجزی سے ان سے ملا کرتے تھے۔کئی عورتوں نے مجھ سے اس کا ذکر بھی کیا ہے اور افسوس کے جو خط آ رہے ہیں ان میں بھی کئیوں نے اس کا اظہار کیا ہے کہ بہت عاجزی اور انکساری سے ملا کرتی تھیں اور دین کی بھی بڑی غیرت رکھتی تھیں۔جماعت اور خلافت کی بڑی غیرت تھی ان کو۔پردہ کی بھی بڑی پابند تھیں۔پردہ میں تو بعض دفعہ اس حد تک چلی جاتی تھیں کہ اگر کسی کا چھوٹا عزیز جو ہے جس سے اگر پردہ نہیں بھی ہے اگر اسے پہچان نہیں رہیں اور وہ گھر میں بھی آ گیا تو تب بھی پردہ کر لیتی تھیں جب تک پہچان نہ ہو جاتی۔ان کی اپنی اولاد تو کوئی نہیں تھی ، اپنی بہن صاحبزادی امتہ الجمیل بیگم صاحبہ جو چو ہدری فتح محمد صاحب سیال کی بہو تھیں ان کے بیٹے کو انہوں نے گود لیا تھا۔بڑا پیار دیا اسے لیکن اس کی تربیت کی بھی کوشش کرتی رہیں ہمیشہ۔خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے کی ہمیشہ تلقین کرتی رہیں۔اس نے مجھے لکھا کہ بچپن سے ہی ہمیں چھوٹی چھوٹی کہانیاں آنحضرت مے کے حوالے سے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حوالے سے سناتی تھیں اور اس طرح اس کے بچوں کو بھی سناتی رہیں۔ایک بات جو مجھے عزیزم ظاہر احمد نے لکھی ہے ان کے بارہ میں۔یہ ان کے بھانجے اور لے پالک ہیں۔انہوں نے بتایا کہ قرآن کریم کو بڑے غورسے پڑھا کرتی تھیں اور صفحوں کے صفحے نوٹس لکھے ہوئے ہیں قرآن کریم پر۔خلافت سے بھی ان کا ایک خاص محبت کا تعلق تھا۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کا دور تو میں نے دیکھا ہے ان کے ساتھ تعلق میں، بڑے بھائی بھی تھے لیکن خلافت سے جو ایک خاص تعلق ہوتا ہے وہ بہت زیادہ تھا۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ چھوٹے بھائی تھے لیکن اس کے بعد خلافت کے بعد انتہائی ادب اور احترام کا تعلق ہوا۔