خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 291
291 خطبه جمعه فرموده 26 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم جائے۔گو یا اللہ تعالیٰ تاکیدی حکم دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے بندو! بھائیوں اور محبتوں کے (ایک دوسرے کو ) تحائف دینے کی طرح دعا کا تحفہ دیا کرو اور (انہیں شامل کرنے کے لئے ) اپنی دعاؤں کا دائرہ وسیع کرو اور اپنی نیتوں میں وسعت پیدا کرو۔اپنے نیک ارادوں میں (اپنے بھائیوں کے لئے بھی گنجائش پیدا کرو اور باہم محبت کرنے میں بھائیوں ، باپوں اور بیٹوں کی طرح بن جاؤ۔“ ( ترجمه عربی عبارت کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 122-121) یہ ایک عربی کتاب ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کرامات الصادقین اس میں سے کچھ حصے کا ترجمہ وا کا ہے۔پس یہ ہے عبادات کے نیک نتائج اور اثرات پیدا کرنے کا طریق۔نیتوں میں وسعتوں کی ضرورت ہے۔اگر صرف اپنے ذاتی مفادات پیش نظر ہوں گے تو عبادتیں وہ معیار حاصل نہیں کر سکتیں۔ان کے نیک نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔اگر عبادتوں کے بعد ایک دوسرے کے لئے محبت کے سوتے نہیں پھوٹتے تو عبادتیں محل نظر ہیں۔اگر دوسرے مسلمانوں کی مساجد میں چلے جائیں تو اکثر جگہ سے آج کل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کے خلاف مغلظات ہی سننے میں آتی ہیں۔جب مسجدوں میں اس طرح دریدہ دینی ہو رہی ہو تو ان مقتدیوں پر کیا اثر ان عبادات کا پڑنا ہے جوان بیہودہ گوئیاں کرنے والوں کے پیچھے نمازیں پڑھتے ہیں۔اور پھر باہر آ کر کیا ایسے لوگوں نے معاملات صاف کرنے ہیں۔اور جہاں تک احمدیوں کا تعلق ہے ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا تعلیم دی ہے ایسی باتیں سننے کے بعد فرمایا ”صبر بڑا جو ہر ہے۔۔۔جماعت کو چاہئے کہ صبر سے کام لے“۔بعض جگہ بعض دفعہ ایسی ایسی باتیں سن کے، جلسے سن کے یا گالیاں سن کے لوگ بے صبری دکھاتے ہیں۔گزشتہ دنوں ہندوستان میں بھی واقعات ہوئے ہیں، وہاں بھی لوگوں نے بڑے بے صبری کے خط لکھے یا اکا دکا کوئی احمدی دکھا بھی دیتا ہے تو فرمایا کہ " جماعت کو چاہئے کہ صبر سے کام لے اور مخالفین کی تختی پر سختی نہ کرے اور گالیوں کے عوض میں گالی نہ دے۔۔۔۔اللہ تعالیٰ اس کی تائید کرتا ہے جو صبر سے کام لے۔میں اس کو پسند نہیں کرتا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی پر حملہ کریں یا اخلاق کے برخلاف کوئی کام کریں۔فرمایا ” خدا تعالیٰ کے الہامات کی تفہیم بھی یہی ہے کہ بردباری کریں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 517 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ نے فرمایا کہ ہمارا مذ ہب یہی ہے کہ ہم بدی کرنے والے سے نیکی کرتے ہیں۔فرمایا ” ہم ان سے سلوک کرتے ہیں اور ان کی سختیوں پر صبر کرتے ہیں۔تم ان کی بدسلوکیوں کو خدا پر چھوڑ دو۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 130 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) جب خدا پر چھوڑو گے تو خدا تعالیٰ کی طرف توجہ پیدا ہو گی۔عبادت کرو گے اور پھر خدا تعالیٰ انشاء اللہ ہدکو آئے گا۔اور پھر آپ نے ہمیں دشمن کے لئے بھی دعا کرنے اور سینہ صاف رکھنے کا حکم دیا ہے۔تو یہ چیزیں ہیں جو