خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 288
خطبات مسرور جلد ہفتم 288 (26) خطبہ جمعہ فرمودہ 26 جون 2009 فرمودہ مورخہ 26 جون 2009ء بمطابق 26 /احسان 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے خطبہ کے آخر میں قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں یہ ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ انہی لوگوں کے گھروں کو بلندی عطا فرماتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے نور سے حصہ پاتے ہیں اور اس ٹور سے حصہ پاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ذکر کو بلند کرتے ہیں۔اپنی عبادتوں اور اعمال صالحہ کی طرف توجہ کرتے ہیں۔اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی جماعت کو جو نصائح فرمائی ہیں ان کا کچھ ذکر آج میں کروں گا۔اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت فرمایا ہے۔لیکن عبادت کس طرح ہو؟ اور کس طرح کی ہو؟ اس زمانہ کے امام نے جو اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کے نور سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کا سب سے زیادہ فہم و ادراک رکھنے والا تھا۔اس بارے میں ہماری راہنمائی اُس قرآنی تعلیم کی روشنی میں فرمائی ہے جس کا ادراک آپ کو عطا فر مایا گیا۔اس کی روشنی میں میں آج بیان کروں گا۔آج ہم جو احمدی کہلاتے ہیں ان پر خدا تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ زمانہ کے امام کو قبول کر کے ہمیں ہر وقت اور ہر معاملہ میں راہنمائی ملتی ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلافت کے جاری نظام اور مرکزیت کی وجہ سے توجہ دلائی جاتی رہتی ہے۔اور خلافت اور جماعت کے ایک خاص رشتے اور تعلق کی وجہ سے جو کہ عہد بیعت کی وجہ سے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا رہتا ہے۔بغیر کسی انقباض کے اصلاح کی طرف توجہ دلانے پر توجہ ہو جاتی ہے۔جبکہ دوسرے مسلمان جو ہیں اس نعمت سے محروم ہیں۔گزشتہ دنوں مجلس خدام الاحمدیہ UK کی عاملہ اور ان کے قائدین کے ساتھ ایک میری میٹنگ تھی کسی بات پر میں نے انہیں کہہ دیا کہ تم لوگ میری باتوں پر عمل نہیں کرتے۔اس کے بعد صدر صاحب خدام الاحمدیہ میرے پاس آئے ، جذبات سے بڑے مغلوب تھے تحریری طور پر بھی معذرت کی کہ آئندہ ہم ہر بات پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کریں گے اور اسی طرح عاملہ کے اراکین جو تھے انہوں نے بھی معذرت کے خط لکھے۔تو یہ تعلق ہے خلیفہ اور جماعت کا۔اس کو دیکھ کر دل اللہ تعالیٰ کی حمد اور شکر سے بھر جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مادی دور میں ،اس مادی ملک میں ، وہ