خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 285
285 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اور یہ نماز ہی ہے جو ہر ایک کو اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنے گی۔عام طور پر ظہر عصر کی نمازیں جمع کرنے کا بڑا رواج ہو جاتا ہے جو سوائے مجبوری کے نہیں ہونا چاہئے۔بعض دفعہ مجبوری میں ہوتا ہے لیکن ایک عادت نہیں بن جانی چاہئے۔ایک حدیث میں آتا ہے ، مسند احمد بن حنبل کی روایت ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری سے روایت ہے ، ان کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ وہ ظہر کی نماز سے قبل چار رکعتیں ادا کیا کرتے تھے۔کسی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے نماز سے پہلے ان چار رکعات پر دوام کیوں اختیار کیا ہے۔بڑی با قاعدگی رکھتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔میں نے آپ سے پوچھا تو آپ یعنی کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ ایک ایسی گھڑی ہے جس میں آسمانوں کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ اس گھڑی میں میرا کوئی نیک عمل بلند ہو۔( مسند احمد بن حنبل مسند ابوایوب الانصاری جلد 7 صفحہ 777 حدیث 23947 ایڈیشن 1998ء مطبوعہ بیروت) پس یہ تھے وہ لوگ جو اس ٹور سے براہ راست فیض پاتے ہوئے اپنے ہر نیک عمل کو اپنی بلندی درجات کا ذریعہ بنانے کی کوشش کرتے تھے اور ان کے ہی گھر تھے جو اُس بلند مقام تک پہنچے۔یہی وہ لوگ تھے جو اس بلند مقام تک پہنچے۔جب وہ رضی اللہ عنہم بنے اور بعد میں آنے والوں کے لئے پھر ایک نمونہ ٹھہرے۔آج مسیح محمدی کے غلاموں کا بھی یہی کام ہے اور ان کی یہی کوشش ہونی چاہئے کہ اپنے اعمال کی بلندی کے لئے جس حد تک بھی نیک عمل بجالانے کی کوشش کی جائے کوشش ہو سکتی ہو کی جائے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ٹور سے وہی فیض پائے گا جس کے پاس کچھ ٹور ہو۔(براہین احمدی روحانی خزان جلد اصلح 195 حاشیہ نمر 1 ) اور اس کے حصول کے لئے اعمال شرط ہے اور ہر موقع سے جو اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ضرورت ہے۔پھر ایک اگلی آیت میں اس کی مزید وضاحت فرمائی کہ صبح شام ذکر کس طرح کرنا ہے جس سے گھروں کو بلند کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے سورۃ کو ر میں ہی کہ رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَإِقَامِ الصَّلوةِ وَإِيتَاءِ الزَّكوةِ۔يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْاَبْصَارُ (النور: 38) ایسے عظیم مرد نہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید وفروخت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا ز کوۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔وہ اُس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل خوف سے الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔پس اس کے بعد بھی اس کے بھی مقام جو ہیں جو صحابہ نے اس نور سے حصہ پا کر حاصل کئے۔باوجود تمام گھریلو ذمہ داریوں کے۔با وجود تمام معاشرتی ذمہ داریوں کے۔باوجود تمام کاروباری ذمہ داریوں کے۔انہیں حقوق اللہ کی ادائیگی سے کوئی چیز غافل نہیں کر سکی وہ اپنی عبادتوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے والے تھے وہ اپنی نمازوں کو وقت پر اور باجماعت ادا کرنے