خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 284
284 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 عاشق صادق نے لیا جیسا کہ پہلے بھی بیان کیا ہے میں نے ، تاکہ دنیا میں اس نور کو پھیلائے۔وہ آخری وحی جس کی روشنی تمام دنیا کے تمام کناروں تک پھیلنی ہے اسے اونچے سے اونچے میناروں پر رکھتا چلا جائے تاکہ دنیا اس کی روشنی سے فیضیاب ہو اور اس کام کو جاری رکھنے کی وجہ سے آپ کو ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو، خاتم الخلفاء کہا گیا ہے۔کہ آپ سے پہلے جو بھی اولیاء اور مجددین آئے ان کے ذریعہ مخصوص لوگوں اور مخصوص علاقوں میں اس تعلیم کو پھیلانے کا کام ہوتا رہا جو آنحضرت سے لے کر آئے تھے۔اب مسیح محمدی کے ذریعہ سے اونچے ترین طاقوں پر رکھ کر اس چراغ کو دنیا کے تمام کناروں تک یکدفعہ پہنچانے کا جو کام ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے۔اور آج ہم دیکھیں تو یہ کام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کے ذریعہ سے ہی ہو رہا ہے۔جو اسلام کی حقیقی تعلیم کو آنحضرت ﷺ کے اسوہ حسنہ کے مطابق پھیلانے کے کام انجام دے رہے ہیں اور اونچے ترین میناروں سے تمام دنیا میں یکدفعہ اس کو دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔آپ کے اُسوہ ، آپ کے اخلاق کو اور آپ کی تعلیم کو اور اس خاتم الخلفاء کے بعد نظام خلافت ہی ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے ان طاقوں سے اور میناروں کو اونچا کرنے کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مفوضہ فرائض کو پورا کرنا ہے۔اور پھر اس آیت کی جو اگلی آیت ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ اَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ( النور :37) کہ ایسے گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے اذن دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے ، ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔یعنی یہ نور مسلمانوں کے گھروں میں ہے۔ان گھروں میں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق عمل کرنے والے ہیں۔اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہیں۔عبادات بجالانے والے ہیں۔عمل صالح کی طرف ہر وقت توجہ رکھنے والے ہیں اور اسوہ رسول مہ کی پیروی کرنے والے ہیں۔اور ایسے گھروں کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے گا ، ان کا رفع کیا جائے گا۔اور ایسے گھر جن کو بلند کیا جائے یہ نشانی ان کی بتائی گئی کہ وہ گھر ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے اور اس میں صبح شام اس کی تسبیح کی جاتی ہے۔یعنی نمازوں کی پابندی ہوتی ہے۔پس اس نور سے حصہ لینے کے لئے اور دین کا مددگار بننے کے لئے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور عبادتوں کی طرف توجہ دی جائے۔صبح کی نماز بھی اور شام کی نماز بھی۔صبح وشام کی عبادتوں کا ذکر ہے۔پس جس نور سے حصہ لینا ہے اور اس کے فیض یافتہ لوگوں میں شمار ہونا ہے تو اس کے لئے پھر نبی کریم ﷺ کی اس بات کو بھی یا درکھنا ہو گا کہ ” میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔“ ( سنن النسائی کتاب عشرۃ النساء باب حب النساء حدیث نمبر 3940)