خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 283 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 283

283 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد هفتم بھی نوع کی تمام انسانوں میں جو اللہ تعالیٰ نے استعدادیں رکھی ہیں ان کا جو بھی کمال ہے وہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی ذات میں پورا فرمایا یہ عظیم کا لفظ استعمال کر کے۔پھر آپ اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ تیل ایسا لطیف“ ہے ایسا ہلکا ہے اور بھڑک ہونے والا ہے کہ بن آگ کے ہی روشن ہو سکتا ہے کہ بن آگ ہی روشن ہونے پر آمادہ ہے۔اس کو آگ نہ بھی دکھاؤ تب بھی وہ روشن ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے ( یعنی عقل اور جمیع اخلاق فاضلہ اس نبی معصوم کے ایسے کمال موزونیت و لطافت و نورانیت پر واقع کہ الہام سے پہلے ہی خود بخو دروشن ہونے پر مستعد تھے۔وحی الہی جب نہیں آئی ، تب بھی وہ اخلاق ایسے اعلیٰ پایہ کے تھے، اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت بنائی تھی کہ لوگ جو تھے اس زمانے کے تب بھی آپ سے روشنی حاصل کرتے تھے۔نُورٌ عَلی نُورٍ ( یعنی جبکہ وجود مبارک حضرت خاتم الانبیاء علی ہے میں کئی نور جمع تھے، سوان ٹوروں پر پہلے ہی کئی نور جمع تھے۔سوان ٹوروں پر ایک اور نور آسمانی جو وحی الہی ہے وارد ہو گیا اور اس نور کے وارد ہونے سے وجود با جو خاتم الانبیاء کا مجمع الانوار بن گیا۔پھر نوروں کا ایک مجموعہ بن گیا۔پس اس میں یہ اشارہ ہے آپ فرماتے ہیں کہ "پس اس میں یہ اشارہ فرمایا کہ نور وحی کے نازل ہونے کا یہی فلسفہ ہے کہ وہ نور پر ہی وارد ہوتا ہے۔تاریکی پر وارد نہیں ہوتا۔کیونکہ فیضان کے لئے مناسب شرط ہے اور تاریکی کو نور سے کچھ مناسبت نہیں۔بلکہ نور کونور سے مناسبت ہے اور حکیم مطلق بغیر رعایت مناسبت کوئی کام نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ کہ جس کا ہر کام حکمت پر منحصر ہے وہ بغیر کسی مناسبت کے کوئی کام نہیں کرتا۔بغیر حکمت کے کوئی کام نہیں کرتا۔اور فرماتے ہیں کہ ایسا ہی فیضان نور میں بھی اس کا یہی قانون ہے۔جنہوں نے نور سے فیض پانا ہے۔عام آدمی جو ہیں ان کے لئے بھی اس کا یہی قانون ہے کہ جس کے پاس کچھ نور ہے اسی کو اور ٹور بھی دیا جاتا ہے۔جو فطرت نیک ہوگی اسی کو پھر اللہ تعالی صحیح راہنمائی فرمائے گا۔اور جس کے پاس کچھ نہیں اس کو کچھ نہیں دیا جاتا۔جو شخص آنکھوں کا نور رکھتا ہے وہی آفتاب کا نور پاتا ہے۔جس کی آنکھیں ہیں وہی سورج کو دیکھ سکتا ہے۔اور جس کے پاس آنکھوں کا نور نہیں وہ آفتاب کے نور سے بھی بے بہرہ رہتا ہے۔اور جس کو فطرتی نور کم ملا ہے اس کو دوسرا نور بھی کم ہی ملتا ہے اور جس کو فطرتی نور زیادہ ملا ہے اس کو دوسر انور بھی زیادہ ہی ملتا ہے۔“ براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد اول صفحه 191 تا 196 حاشیہ نمبر 11) اللہ تعالیٰ نے فطرت میں استعدادوں کے مطابق نور رکھا ہے۔نیک فطرت زیادہ جذب کرتا ہے نیکیوں کو جس میں کمی ہے وہ کم جذب کرتا ہے اور اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق ہر کوئی اس نور سے فائدہ اٹھاتا ہے۔پس یہ آنحضرت ﷺ کا کامل نور تھا جو اللہ تعالیٰ کے نور کا پر تو تھا اور اب تا قیامت یہی نور ہے جس نے دنیا کو فیض پہنچانا ہے لیکن یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس زمانہ میں اس نور سے سب سے زیادہ حصہ آنحضرت لے کے