خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 279
279 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ نُورٌ عَلَى نُورٌ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَّشَاءُ۔وَيَضْرِبُ الله الامثَالَ لِلنَّاسِ وَاللهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ - (النور: 36) کہ اللہ آسمان اور زمین کا نور ہے، اس کے نور کی مثال ایک طاق کی سی ہے جس میں ایک چراغ ہے وہ چراغ شیشہ کے شمع دان میں ہو، وہ شیشہ ایسا ہو گویا ایک چمکتا ہوا روشن ستارہ ہے۔وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت سے روشن کیا گیا ہو جو نہ مشرقی ہو اور نہ مغربی۔اس کا تیل ایسا ہے کہ قریب ہے کہ وہ از خود بھڑک کر روشن ہو جائے۔خواہ اسے آگ کا شعلہ نہ بھی چھوا ہو یہ نور علی نور ہے، اللہ اپنے نور کی طرف جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور اللہ لوگوں کے لئے مثالیں بیان کرتا ہے اور اللہ ہر چیز کا دائمی علم رکھنے والا ہے۔پہلے اللهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالاَرضِ کی وضاحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ خدا آسمان وزمین کا نور ہے۔یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے خواہ وہ ارواح میں ہے روحوں میں ہو، خواہ اجسام میں ، خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی، یعنی خواہ کسی کی ذاتی خوبی کی وجہ سے اس میں نظر آ رہا ہے وہ نور یا کسی سے مانگ کے لیا ہے اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ پہنی ہے، خواہ خارجی۔اُسی کے فیض کا عطیہ ہے۔“ یہ تمام قسم کے نور جو ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے فیض کا عطیہ ہیں۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیض عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اسی سے تمام فیض پھوٹتے ہیں اور تمام انوار کا علت العلل اسی کی وجہ سے تمام ( یعنی وہی وجہ بنتا ہے تمام نوروں کا ) اور تمام رحمتوں کا سر چشمہ ہے۔اسی کی ہستی حقیقی تمام عالم کی قیوم تمام کائنات کو قائم رکھنے والی اور تمام زیر وزبر کی پناہ ہی وہی ہے جو بھی الٹ پلٹ ہے، تباہی ہے، بر بادی ہے تعمیر ہے، تخریب ہے، ہر چیز کی پناہ وہی ہے۔”جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانہ عدم سے باہر نکالا اور خلعت وجود بخشا۔یعنی کچھ چیز نہیں تھی پہلے جو ایک کائنات بھی بند تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پیدا کیا اور اس کو وجود بخشا۔فرمایا یہ تو عام فیضان ہے یہ ایک ایسا فیضان ہے جس سے ہر ایک فائدہ اٹھا رہا ہے۔” جس کا بیان آیت اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ میں ظاہر فرمایا گیا۔یہی فیضان ہے جس نے دائرہ کی طرح ہر یک چیز پر احاطہ کر رکھا ہے دنیا کی ہر مخلوق جو ہے وہ چاہے مومن ہے غیر مومن ہے، پتھر ہیں۔پہاڑ ہیں ، پانی ہے، جانور ہیں ہر چیز پر اللہ تعالیٰ نے احاطہ کر رکھا ہے۔” جس کے فائز ہونے کے لئے کوئی قابلیت شرط نہیں۔لیکن ہم مقابلہ اس کے ایک خالص فیضان بھی ہے جو مشروط بشرائط ہے۔“ ایک ایسا فیض ہے جو خالص ہے اس کی بعض شرطیں ہیں اور انہیں افراد خاصہ پر فائض ہوتا ہے جن میں اس کے قبول کرنے کی قابلیت و استعداد موجود ہے اور یہ جو خاص فیضان ہے یہ انہی لوگوں کے لئے ہے جن میں وہ استعدادیں بھی موجود ہوں جو اس کو قبول کر سکتی ہیں۔یعنی نفوس کا ملہ انبیاء علیہم السلام پر جن میں سے افضل و اعلیٰ ذات جامع البرکات حضرت محمد مصطفی سے ہے اور یہ جو قابلیت اور استعدادیں رکھنے والے لوگ ہیں وہ سب سے زیادہ انبیاء علیہم السلام ہیں اور انبیاء میں بھی سب سے زیادہ استعداد میں اور قابلیت