خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 278
278 خطبه جمعه فرموده 19 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تو اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بتایا کہ آنحضرت ﷺ کی پیروی میں اعلیٰ اعمال ہی تمہارے لئے اونچے مقام دلانے والے ہو سکتے ہیں پس سو چو اور غور کرو اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرو لیکن سوچنے اور غور کرنے کے بعد بھی مسلمان علماء اور مسلمانوں کے لیڈر یہ تو کہتے ہیں کہ ہمارے عمل غیر صالح ہونے کی وجہ سے ہماری حرکات کی وجہ سے ہمیں بلندیوں کی بجائے ذلت کا سامنا ہے۔لیکن یہ مانے کو تیار نہیں کہ عمل صالح بجالانے کے جو طریقے خدا تعالیٰ نے بتائے ہیں، اس زمانہ میں خاص طور پر ، ان پر کس طرح عمل کرنا ہے۔آنحضرت ﷺ کا وہ عاشق صادق جو خدا کے بعد ہر وقت آپ کے عشق میں مخمور رہتا تھا اور اس عشق رسول کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے زمانے کا امام اور مہدی اور سیح بنا کر بھیجا تھا اور اپنے نور سے منور کیا ہے۔اس عاشق رسول کا انکار تم کر رہے ہو اور نہ صرف انکار کر رہے ہو بلکہ آج مسلمان ہونے کی تعریف یہی ہے کہ جو اس عاشق صادق کو گالیاں دے ہر تحریر میں گندے اور بے ہودہ الفاظ استعمال کرے وہی سچا مسلمان کہلاتا ہے۔اس عاشق رسول نے تو یہ اعلان کیا تھا اور اعلان کرتا ہے کہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں سے حق کے وجود اپنا ملایا ہم نے جب ذات اور پھر فرمایا: پر تیرا بے حد ہو سلام اس نور لیا بار خدایا ہم نے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 225 اور یہ ظالم کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کا فر ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ کے مقام کی ہتک کرتے ہیں۔پس وہ نور جو آنحضرت میلہ کا نور ہے، جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے اس کا صحیح اور اک اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے علاوہ نہ کسی کو ہے اور نہ کسی کو ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ آپ ہی وہ عاشق صادق ہیں جن کو آپ کے مقام کا اور نور کا ادراک ہے۔اس ٹور کی خوبصورتی کو جس انداز میں آپ نے پیش فرمایا ہے وہ آپ کا ہی حصہ ہے۔پس آج عمل صالح کر کے بلند مقام پانے والے وہی لوگ ہوں گے جو اس عاشق صادق سے حقیقی رنگ میں جڑ جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آنحضرت ﷺ کے مقام اور نورمحمدی کی سورۃ نور کی ایک آیت کی روشنی میں جو تفسیر فرمائی ہے وہ میں پیش کرتا ہوں۔یہ سورۃ نور کی آیت 36 ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اللَّهُ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ۔مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبَرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِى ءُ وَلَوْ