خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 275
خطبات مسرور جلد ہفتم 275 خطبہ جمعہ فرمود ه 12 جون 2009 نماز جمعہ کے بعد میں بعض جنازے بھی پڑھاؤں گا۔حضوا نور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا۔جن جنازوں کا میں نے ذکر کیا ہے، ایک تو ہے مکرم چوہدری فضل احمد صاحب کا جو صدر انجمن احمد یہ ربوہ پاکستان کے افسر خزانہ تھے۔7 جون کو دل کی تکلیف سے ظاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ میں 65 سال کی عمر میں بقضائے الہی وفات پاگئے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کو دل کی پرانی تکلیف تھی۔لیکن اس کے باوجود بڑی مستعدی سے اور بشاشت سے ہمیشہ اپنے کام میں مصروف رہتے تھے۔وقت پہ دفتر آنا اور پورا وقت گزارنا۔وفات سے ایک دن پہلے بھی اپنے دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کو دل کی تکلیف ہوئی اور وہاں سے جب ہسپتال گئے تو ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹر نے وہیں روک لیا اور وہیں اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔یہ 25 سال سے افسر خزانہ تھے۔اس سے پہلے جب انہوں نے زندگی وقف کی تو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ میں کام کیا۔مجلس کار پرداز میں بھی کام کیا۔نائب ناظر بیت المال خرچ بھی رہے۔بڑی خوش مزاج ، مرنجاں مرنج طبیعت کے مالک تھے، کسی کو نہ دکھ دینا۔کسی کو تکلیف نہیں دینی اور مخلص اور فدائی تھے۔خلافت سے بڑا تعلق تھا۔پچھلے سال یہاں جلسے پر بھی آئے تھے۔بار بار جذباتی ہو جایا کرتے تھے بلکہ ان کی طبیعت کے لحاظ سے ان کا جذباتی ہونا مجھے عجیب لگتا تھا۔شاید پتہ ہو کہ آئندہ ملاقات نہیں ہوگی۔بہر حال اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی ایک بیٹی ہیں طاہرہ مریم صاحبہ جو جرمنی میں رہتی ہیں سلیم اللہ صاحب کی اہلیہ ہیں۔دوسرا جنازہ ڈاکٹر عطاء الرحمن صاحب ساہیوال کا ہے۔ان کی وفات 5 جون کو 95 سال کی عمر میں ہوئی۔انا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ مختلف جگہوں پہ جماعتی خدمات ادا کرتے رہے۔ساہیوال شہر کے بڑے لمبا عرصہ امیر شہر بھی رہے اور ضلع بھی اور بحیثیت ڈاکٹر بھی بڑے نافع الناس وجود تھے۔اپنے گاؤں میں ایک فلاحی ہسپتال بھی قائم کیا ہوا تھا۔اور 2003ء میں اسی وجہ سے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے آپ کو Man of the Year کا ایوارڈ بھی دیا تھا۔تبلیغ کا بھی شوق تھا۔حکمت سے اپنا یہ فریضہ بھی انجام دیتے تھے۔ساہیوال کے جو کیس تھے جن میں ہمارے چار احباب کو سزائے موت سنائی گئی یا عمر قید سنائی گئی ان میں بھی یہ بڑی حکمت سے اپنا کر دار ادا کرتے رہے۔نہایت معاملہ فہم اور زیرک تھے۔علاقہ میں اچھا اثر و رسوخ بھی تھا۔مخلص تھے۔دعا گو تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ان کے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ چھ بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ان کے ایک بیٹے وہاں ہیں باقی تو باہر کینیڈا وغیرہ میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیوں کو قائم رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ 27 مورخہ 3 جولائی تا 9 جولائی 2009 صفحہ 5 تا صفحہ 9)