خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 266 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 266

266 خطبه جمعه فرمود ه 12 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ترجمہ : میں تجھے اپنی طرف اٹھاؤں گا اور میں اپنی طرف سے محبت تیرے پر ڈالوں گا “۔( یہ ترجمہ حضرت مسیح موعود نے خود فرمایا ہے ( یعنی بعد اس کے کہ لوگ دشمنی اور بغض کریں گے یک دفعہ محبت کی طرف لوٹائے جائیں گے جیسا کہ یہ مہدی موعود کے نشانوں میں سے ہے اور پھر فرمایا کہ جولوگ تیرے پر ایمان لائیں گے ان کو خوشخبری دے کہ وہ اپنے رب کے نزدیک قدم صدق رکھتے ہیں اور جو میں تیرے پر وحی نازل کرتا ہوں تو اُن کو سنا۔خلق اللہ سے منہ مت پھیر اور ان کی ملاقات سے مت تھک۔اور اس کے بعد الہام ہوا۔وَ وَسِعُ مَكَانَكَ یعنی اپنے مکان کو وسیع کر لے۔اس پیشگوئی میں صاف فرما دیا کہ وہ دن آتا ہے کہ ملاقات کرنے والوں کا بہت ہجوم ہو جائے گا۔یہاں تک کہ ہر ایک کا تجھ سے ملنا مشکل ہو جائے گا۔پس تو اُس وقت ملال ظاہر نہ کرنا اور لوگوں کی ملاقات سے تھک نہ جانا۔سبحان اللہ یہ کس شان کی پیشگوئی ہے اور۔۔۔اس وقت بتلائی گئی ہے کہ جب میری مجلس میں شاید دو تین آدمی آتے ہوں گے اور وہ بھی کبھی کبھی۔سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 73) یہ وَسِعُ مَكَانَكَ کا الہام اور لوگوں کے آنے کی خوشخبری آپ کو اس وقت دی جارہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ کبھی کبھار دو تین آدمی میری مجلس میں آیا کرتے تھے۔لیکن آپ کی زندگی پر اس سے چند سال پہلے، چار پانچ سال پہلے ہم نظر دوڑا کر دیکھیں تو دنیاوی لحاظ سے آپ کی زندگی میں کچھ بھی نہ تھا۔یہاں تک کہ گزارہ بھی والد صاحب کے ذمہ تھا اور آپ کے والد صاحب کہا کرتے تھے کہ کچھ کام کیا کرو۔کام نہیں کرو گے تو کھاؤ گے کہاں سے۔شادی ہوگئی تو بیوی بچوں کو کہاں سے کھلاؤ گے۔لیکن آپ نہایت ادب سے والد صاحب کو یہی جواب دیا کرتے تھے کہ جو آپ کہتے ہیں میں کر لیتا ہوں لیکن میں تو احکم الحاکمین کا نوکر ہو چکا ہوں۔دنیا داری میں تو میرا دل نہیں لگتا۔والد صاحب آپ کی بات سن کر خاموش ہو جایا کرتے تھے۔لیکن آپ کے لئے ہر وقت فکر مند رہتے تھے۔انہیں کیا معلوم تھا کہ اس بیٹے کی تمام تر ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول سے عشق و محبت کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اپنے سپر د کر لی ہوئی ہے۔یہاں اپنے کھانے یا اپنے بیوی بچوں کے کھلانے کا سوال نہیں ہے۔وقت آنے پر دنیا وہ نظارہ دیکھے گی کہ جب آپ کے دستر خوان سے ہزاروں لوگ کھانا کھا رہے ہوں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے والد کی وفات ہوئی ہے تو وفات ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے وفات کی اطلاع آپ کو دی۔تو بشری تقاضے کے تحت آپ کو بھی اپنے معاش کی فکر ہوئی جو آپ کے والد صاحب سے وابستہ تھا۔لیکن جو نہی یہ خیال آیا اللہ تعالیٰ نے فوراً الہام کیا کہ اليْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَہ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے ؟ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ الہام ہوتے ہی وہ خیال یوں اُڑ گیا جیسا کہ روشنی کے نکلنے سے تاریکی اڑ جاتی ہے۔جیسے روشنی آنے سے اندھیر غائب ہو جاتا ہے۔اور آپ نے پھر اس الہام کی انگوٹھی بھی تیار کر والی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” خدا نے ان کی وفات کے بعد ( یعنی والد صاحب کی