خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 261

261 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم لیکن اس شفاعت کے بیان کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا کہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جوان کے پیچھے ہے۔پس ہمارا خدا عالم الغیب ہے۔اس لئے ایسے لوگ جو کھلے گناہوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کے بارہ میں نہ تو یہاں شفاعت کا اذن ہوتا ہے اور نہ اگلے جہان میں ہوگا۔یہی قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وسعتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاء۔اس میں واضح طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے علم کا احاطہ کوئی نہیں کر سکتا۔حتی کہ آنحضرت سے بھی جو خدا تعالیٰ کے محبوب ترین ہیں اور آپ کے بارہ میں مومنوں کو حکم ہے کہ اگر تم خدا تعالیٰ کی محبت چاہتے ہو تو میرے محبوب ﷺ کی پیروی کرو جن کو تمام علموں سے اللہ تعالیٰ نے بھر دیا تھا۔آئندہ زمانوں کی جو بھی خبر میں قرآن کریم نے دیں وہ آپ کے ذریعہ سے آئیں اور ان کا ادراک بھی آنحضرت ﷺ کو اس وقت عطا فرمایا۔بعض باتیں ایسی ہیں جو اس زمانے میں صحابہ سمجھ نہیں سکتے تھے لیکن آنحضرت یہ ان کا بھی ادراک رکھتے تھے۔لیکن فرمایا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مکمل علم نہیں ہے۔بلکہ میرے علم کی وسعتوں کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔اس طرح اللہ تعالی تلاش کرنے والوں کو چاہے روحانی مدارج اور علوم کی تلاش میں کوئی ہو یا دنیاوی علوم کی تلاش میں کوئی ہو ، نئے راستے دکھاتا ہے، نئی منزلیں دکھاتا ہے۔اور جب انسان وہاں پہنچتا ہے تو پھر مزید راستے نظر آتے ہیں۔سائنس کی ترقی بھی اس بات کی دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نئے سے نئے راستے ان جستجو کرنے والوں کو دکھاتا ہے اور کائنات کی وسعتوں کا تو شمار ہی نہیں ہے۔اسی طرح روحانی مدارج ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا علم لامحدود ہے جس کا کوئی احاطہ نہیں کر سکتا۔نہ صرف خدا تعالیٰ کی ہستی کا احاطہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس کائنات کی پیدائش کا بھی احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔خدا ہی ہے جب چاہتا ہے کچھ راز انسانوں پر ظاہر فرما دیتا ہے یا کچھ علم دے دیتا ہے اور یہ بات پھر انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر نے والا بنانے والی ہونی چاہئے جو تمام صفات کا جامع اور لامحدود ہے۔پھر فرمایا وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمواتِ وَالارْضِ کیونکہ اس کی بادشاہت زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور آسمان پر پھیلی ہوئی ہے۔وہ تمام کائنات کی اور جتنی بھی کائناتیں ہیں ان میں موجود ہر چیز کو زندگی دینے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔تمہارا علم محدود ہے۔وہی تمہیں علم دیتا ہے۔جس حد تک استعدادوں نے ترقی کی ہے یا کوشش کی ہے اس حد تک علم دیتا ہے۔لیکن یہ علم بھی صرف اس حد تک ہے جس حد تک خدا تعالیٰ چاہتا ہے۔اس لئے وہی اس بات کا حقدار ہے کہ اس کے آگے جھکو اور تمام باطل معبودوں کو چھوڑ دو۔اسی کی حکومت زمین و آسمان تک پھیلی ہوئی ہے بلکہ اس نے اس کی حفاظت بھی اپنے ذمہ لی ہوئی ہے اور اس سے وہ تھکتا بھی نہیں۔ہر چیز پر اس کی نظر ہے اور یہ ایسا وسیع اور جامع نظام ہے کہ اس کا احاطہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نظر دوڑاؤ کہ شاید اللہ تعالیٰ کی پیدائش میں کوئی نقص تلاش کر سکو لیکن ناکام ہو گے۔تمہاری نظر واپس آ جائے گی۔پھر نظر دوڑاؤ پھر وہ تھکی