خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 262 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 262

262 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 ہوئی واپس آ جائے گی۔لیکن خدا تعالیٰ وہ ذات ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے اور ازل سے چلا رہا ہے اور بغیر کسی اونگھ اور نیند کے اور بغیر کسی تھکاوٹ کے اسے چلا رہا ہے۔پس کیا یہ باتیں تمہیں اس طرف توجہ نہیں دلا نہیں کہ اس وسعتوں والے خدا کے سامنے اپنی گردنیں جھکا دو اور سرکشی میں نہ بڑھو۔اور آخر میں فرمایا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ کہ وہ بلندشان والا اور عظمت والا ہے۔اس سارے نظام کو چلانے کے لئے اسے کسی مددگار کی ضرورت نہیں ہے۔پس یہ خدا ہے جو اسلام کا خدا ہے۔تمام صفات کا مالک اور جامع ہے اور یقینا وہ اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ فہم و ادراک عطا فرمائے جس سے ہم اپنے اللہ کی پہچان کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے سامنے جھکے رہنے والے، اس کی عبادت کرنے والے بنے رہیں اور اسے تمام صفات کا جامع سمجھتے ہوئے اس کی صفات کے کمال سے فیض اٹھانے والے بنے رہیں۔میں جمعہ کے بعد جنازے بھی پڑھاؤں گا، کچھ افسوسناک خبریں ہیں۔پہلا جنازہ جو ہوگا وہ تو مکرم میاں لئیق احمد طارق صاحب ابن مکرم یعقوب احمد صاحب فیصل آباد کا ہے جن کو 28 مئی کو شر پسندوں نے اپنی دکان سے گھر آتے ہوئے شہید کر دیا تھا۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے ماتھے اور پیٹ پر گولیاں لگیں۔رات کو ہسپتال میں لے کر گئے لیکن بہر حال جانبر نہیں ہو سکے اور شہادت کا رتبہ پایا۔ان کی عمر 54 سال تھی۔یہ اپنے گھر کے سامنے ہی آرہے تھے۔ان کا بیٹا پہلے ہی موٹر سائیکل پر گھر میں آ گیا تھا۔اس نے دیکھا کہ دو تین آدمی گھر کے سامنے کھڑے ہیں۔ان کو دیکھ کے بیٹے نے فون کرنے کی کوشش کی لیکن یہ پیچھے کار میں آ رہے تھے۔جلدی پہنچ گئے اور ایک جگہ سپیڈ بریکر پر جب کار ہلکی کی تو وہیں ان بد بختوں نے فائر کیا۔ان کے ماتھے پر گولی گی اور پھر قریب جاکے اور فائر کئے۔بہر حال اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو بھی صبر جمیل عطا فرمائے۔آپ موصی تھے اور آپ کے والد کے پڑدادا بھی حضرت فضل الہی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے صحابی تھے۔جماعت کی خدمات کرتے ہوئے مختلف عہدوں پر خدمات کا موقع ملا۔بڑے محبت کرنے والے تھے۔آپ کے پسماندگان میں آپ کی والدہ ہیں، 78 سال کی بوڑھی ہیں اور اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔آپ کے ایک بھائی یہاں رہتے ہیں۔انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کی وفات کا سن کے جب انہوں نے والدہ کو فون کیا تو یہ تو اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں رکھ رہے تھے لیکن والدہ نے ان کو تسلی دلائی کہ تم کو جذباتی ہونے کی کیا ضرورت ہے۔مجھے تو بڑا فخر ہے کہ میں شہید کی ماں بن گئی ہوں۔تو یہ مائیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آکر جن کے وہ نمونے ہمیں نظر آتے ہیں جو قرون اولیٰ میں نظر آتے تھے۔دوسرا جنازہ غلام مصطفیٰ صاحب اسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس (۔A۔S۔L) کا ہے جن کی عمر 49 سال تھی۔پچھلے دنوں لاہور میں جس بلڈنگ میں بم دھما کہ ہوا ہے اس میں وہاں ان کی بھی شہادت ہوئی۔