خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 260

260 خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم الله آپ ﷺ کے شفیع ہونے سے کیا مراد ہے۔اس بارہ میں مختلف حوالوں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے وضاحت فرمائی ہے۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ” ہاں سچا شفیع اور کامل شفیع آنحضرت ملے ہیں۔جنہوں نے قوم کو بت پرستی اور ہر قسم کے فسق و فجور کی گندگیوں اور ناپاکیوں سے نکال کر اعلیٰ درجہ کی قوم بنا دیا۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 160 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس جب حدیث سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے آپ مکہ شفاعت فرمائیں گے تو اس وقت ان لوگوں کی شفاعت ہوگی جو شرک سے پاک ہوں گے۔ایک خدا کی عبادت کرنے والے ہوں گے۔فسق و فجور سے بچنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اور اگر چھوٹی چھوٹی کمزوریوں سے جو سرزد ہو بھی جاتی ہیں تو پھر اللہ تعالی بھی آپ کی شفاعت سے صرف نظر فرمائے گا۔معجم الاوسط جلد 6 صفحہ 90 باب من اسمه موسی - دار الفکر عمان اردن 1999ء) اس بات کو مزید کھول کر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یوں فرمایا ہے کہ: یہ ہرگز نہ سمجھنا چاہئے کہ شفاعت کوئی چیز نہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ شفاعت حق ہے اور اس پر یہ نص صریح ہے۔وَصَلَّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلونَكَ سَكَن لَّهُمُ (التوبة : 103) یہ شفاعت کا فلسفہ ہے یعنی جو گنا ہوں میں نفسانیت کا جوش ہے وہ ٹھنڈا پڑ جاوے۔شفاعت کا نتیجہ یہ بتایا ہے کہ گناہ کی زندگی پر ایک موت وارد ہو جاتی ہے اور نفسانی جوشوں اور جذبات میں ایک برودت آ جاتی ہے جس سے گناہوں کا صدور بند ہو کر ان کے بالمقابل نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں“۔( یعنی نفسانی جوشوں میں اور جذبات میں کمی آجاتی ہے، ان میں ٹھنڈ پڑ جاتی ہے جس سے گناہوں کا صادر ہونا یا عمل ہونا کم ہو جاتا ہے اور اس کے مقابلہ میں نیکیاں شروع ہو جاتی ہیں ) پس شفاعت کے مسئلے نے اعمال کو بریکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے“۔آپ فرماتے ہیں پس شفاعت کے مسئلے نے اعمال کو بریکار نہیں کیا بلکہ اعمال حسنہ کی تحریک کی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 701-702 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس آنحضرت ﷺ کی شفاعت اس دنیا میں ہی شروع ہو گئی تھی اور یہ نیک اعمال کے ساتھ مشروط ہے، نہ کسی کفارہ سے اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔کفارہ کے فلسفے میں گناہوں میں دلیری پیدا ہوتی ہے اور شفاعت کے فلسفے میں نیک اعمال کی طرف اور خدا کو ماننے اور اس کے احکامات پر عمل کرنے کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے اور اس زمانہ میں دعا کے ذریعہ سے شفاعت کا اذن اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کو عطا فرمایا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” میری جماعت کے اکثر معزز خوب جانتے ہیں کہ میری شفاعت سے بعض مصائب اور امراض میں مبتلا اپنے دکھوں سے رہائی پاگئے ہیں۔(لیکچر سیالکوٹ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 236)