خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 254 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 254

خطبات مسرور جلد ہفتم 254 (23) خطبه جمعه فرموده 5 جون 2009 فرمودہ مورخہ 05 جون 2009ء بمطابق 05 راحسان 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد آیت الکرسی کی تلاوت فرمائی: اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ۔لَهُ مَا فِى السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَةَ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ وَلَا يَؤُدُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ (البقرة: 256) اس آیت کا ترجمہ ہے کہ اللہ ، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ہمیشہ زندہ رہنے والا اور قائم بالذات ہے۔اسے نہ تو اونگھ پکڑتی ہے اور نہ نیند۔اسی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔کون ہے جو اس کے حضور شفاعت کرے مگر اس کے اذن کے ساتھ۔وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جوان کے پیچھے ہے۔اور وہ اس کے علم کا کچھ بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جتنا وہ چاہے۔اس کی بادشاہت آسمانوں اور زمین پر ممتد ہے۔اور ان دونوں کی حفاظت اسے تھکاتی نہیں۔اور وہ بہت بلندشان اور بڑی عظمت والا ہے۔یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی جیسا کہ ہم جانتے ہیں اس کا نام آیت الکرسی ہے، یہ آیت الکرسی کہلاتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہر چیز کا ایک چوٹی کا حصہ ہوتا ہے اور قرآن کریم کی چوٹی کا حصہ سورۃ البقرہ ہے اور اس میں ایک ایسی آیت ہے جو قرآن کریم کی سب آیات کی سردار ہے۔اور وہ آیت الکرسی ہے۔( سنن الترمذی کتاب فضائل القرآن باب ما جاء في فضل سورة البقرة وآية الكرسى حديث نمبر 2878) اسی طرح یہ بھی روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص سورۃ البقرۃ کی دس آیات پڑھ کر سوئے صبح تک اس کے گھر میں شیطان نہیں آتا۔ان آیات میں سے ایک آیت ، آیت الکرسی ہے۔( سنن الدار می کتاب فضائل القرآن باب فضل اول سورة البقرة وآية الكرسی حدیث نمبر (3383) آنحضرت ﷺ کا یہ فرما نا صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ پڑھ لی اور سو گئے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت کو اور ان آیات کو غور سے پڑھا جائے۔ان پر غور کیا جائے۔ان کے معانی پر غور کیا جائے۔پھر انسان اپنا جائزہ لے اور دیکھے کہ کس حد تک ان پر عمل کرتا ہے ، کس حد تک اس میں پاک تبدیلیاں ہیں اور جائزہ لینے کے بعد جو بھی صورت