خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 251 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 251

خطبات مسرور جلد ہفتم 251 خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 کبھی نہ آئی ہو تو وہ کیونکر مان سکتا ہے کہ الہام اور وحی بھی کوئی چیز ہے اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ صفت ہے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اِس لئے یہ مادہ اُس نے سب میں رکھ دیا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 280-281 مطبوعہ ربوہ ) چوروں ، ڈاکوؤں، زانیوں کو بھی سچی خوا ہیں آتی ہیں۔گیارہویں بات یہ کہ بچپن کا زمانہ اور جوانی میں قدم رکھنے سے پہلے کا زمانہ بے خبری کا زمانہ ہے۔اسی طرح جو کم عقل ہیں یا ذہنی معذور ہیں وہ بھی۔ان کا احکامات پر عمل نہ کرنا یا اس طرح پابندی نہ کرنا قابل مواخذہ نہیں ہو گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ابتدائی زمانہ تو بے خبری اور غفلت کا زمانہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ نہ کرے گا جیسا کہ خود اس نے فرما یا لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا۔66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 199 مطبوعہ ربوہ ) بارہویں بات یہ کہ اگر جوانی اور پوری ہوشیاری اور عقل اور تمام قویٰ کی صحت کی حالت میں اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ ہو۔تو پھر یہ بات قابل مواخذہ ٹھہرے گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ ایک ہی زمانہ ہے۔یعنی شباب کا زمانہ جوانی کا زمانہ ”جب انسان کوئی کام کر سکتا ہے کیونکہ اس وقت قویٰ میں نشو ونما ہوتا ہے اور طاقتیں آتی ہیں لیکن یہی زمانہ ہے جبکہ نفس امارہ ساتھ ہوتا ہے اور وہ اس پر مختلف رنگوں میں حملے کرتا ہے اور اپنے زیر اثر رکھنا چاہتا ہے۔یہی زمانہ ہے جومؤاخذہ کا زمانہ ہے اور خاتمہ بالخیر کے لئے کچھ کرنے کے دن بھی یہی ہیں۔لیکن ایسی آفتوں میں گھرا ہوا ہے کہ اگر بڑی سعی نہ کی جاوے تو یہی زمانہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور شقی بنادے گا۔ہاں اگر عمدگی اور ہوشیاری اور پوری احتیاط کے ساتھ اس زمانہ کو بسر کیا جاوے تو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو جاوے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 199 مطبوعہ ربوہ ) پس با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔جو احکام دئے ہیں اور جن کے نہ کرنے کا حکم دیا ہے اگر ایک انسان ان کے مطابق اپنی زندگی ڈھالنے کی کوشش نہیں کرتا با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی وسیع تر رحمت اور بخش کی خوشخبری دی ہے اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا اور خود انسان اپنی وسعتوں اور طاقتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے روگردانی کرتا ہے۔تو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے جہنم میں لے جانے کا باعث بنتی ہے یہ بات اللہ تعالیٰ نے خود بھی لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہنے کے بعد آگے فرمایا ہے کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ کہ اس نے جواچھا کام کیا وہ بھی اس کے لئے نفع مند ہے اور جو اس نے بُرا کام کیا وہ بھی اس پر وبال ہو کر پڑے گا۔نیکی کے لئے کسب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔جو