خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 252
252 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 29 مئی 2009 آسانی سے ہو سکتا ہے اگر ارادہ ہو۔کیونکہ نیکی فطرت کے مطابق ہے لیکن بعض اوقات انسان اپنی بدقسمتی سے فطرت کے مطابق عمل کرنے کی بجائے اکتساب کا راستہ اختیار کرتا ہے جو غیر فطری بات ہے۔اخلاقی قوتوں کے صحیح مواقع پر استعمال نہ کرنے کی وجہ سے اس راستے پر انسان چلتا ہے اور سمجھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ آسان راستہ ہے۔لیکن جب گناہوں اور برائیوں میں دھنستا چلا جاتا ہے۔پھر احساس ہوتا ہے کہ ایک تکلیف دہ راستے کی طرف چل پڑا ہوں میں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اکتساب کا ایک یہ نکتہ بھی بیان فرمایا ہے کہ بدیوں میں سے صرف اُس بدی کی سزا ملے گی جس میں اکتساب کا رنگ پایا جائے گا یعنی قصداً اور ارادہ اس کا ارتکاب کیا جائے گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد دوم صفحه 657 مطبوعه ربوہ ) اس کو چھوڑے نہ بلکہ جان بوجھ کر اس کو کرتا چلا جائے۔پس اللہ تعالیٰ تو نہ کسی جان کو تکلیف میں اس کی طاقت سے بڑھ کر ڈالتا ہے اور نہ کوئی ایسے احکامات دیتا ہے جو اس کو تکلیف میں ڈالنے والے ہوں بلکہ عفو اور درگز راور بخشش سے کام لیتا ہے۔لیکن اگر کسی بدی کے ارتکاب پر انسان کو جرات پیدا ہو اور وہ کرتا ہی چلا جائے تو اس کی سزا ہے پھر اس لئے ہمارے پیارے اور مہربان خدا نے اس آیت کے اگلے حصے میں ہمیں یہ دعا بھی سکھا دی کہ نیک کاموں کی طرف توجہ رہے جو ہر حال میں فطرت کے مطابق ہیں اور ان پر عمل کرنا انسان کی پہنچ کے اندر بھی ہے۔جیسا کہ فرمایا رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأَنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلُ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَابِهِ۔وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ کہ اے ہمارے رب اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کر بیٹھیں تو ہمیں سزا نہ دینا۔اے ہمارے رب ! اور تو ہم پر اس طرح ذمہ داری نہ ڈالنا جس طرح تو نے ان لوگوں جو ہم سے پہلے گزر چکے ہیں ڈالی اور اے ہمارے رب ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم سے درگزر کر ہمیں بخش دے اور ہم پر تو ہمارا آتا ہے اور کافروں کے خلاف ہماری مددکر۔پس تزکیہ نفس کے لئے یہ دعائیں انتہائی ضروری ہیں۔کیونکہ جب تزکیہ نفس ہوگا تو لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کا صحیح ادراک بھی ہوگا۔انتہائی عاجزی سے انسان یہ دعا کرتا ہے کہ اے ہمارے خدا ان نیک باتوں کے نہ کرنے کی وجہ سے ہمیں نہ پکڑ جن کو ہم بھول گئے۔ان لوگوں کا ہمیں انجام نہ دینا جن پر تیری گرفت ہوئی تھی۔اب یہ ان کا انجام نہ دینا اس لئے نہیں تھا کہ ہم بغاوت کرنے والے یا حد سے بڑھنے والے تھے یا تیرے حکموں کی پرواہ نہ کرنے والے تھے۔بلکہ بوجہ نسیان یا بھول چوک جو انسانی فطرت کا حصہ ہے ہم اسے نہ کر سکے۔اس لئے ہمارے سے اگر کوئی بھول چوک ہوئی ہے تو ہمیں کہیں ان لوگوں میں شمار نہ کر لینا جو عادتاً یہ کرنے والے لوگ تھے۔اور پھر