خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 244
خطبات مسرور جلد ہفتم 244 خطبہ جمعہ فرموده 29 مئی 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز نہیں ٹھہرنا چاہئے۔ور نہ شیطان لعین اور طرف لگادے گا اور جیسے بند پانی میں عفونیت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لئے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے۔پس سعادت مند کا فرض ہے وہ طلب دین میں لگا ر ہے۔ہمارے نبی کریم کے سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا۔لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی۔پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحه 141-142 مطبوعہ ربوہ ) پس یہاں لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا سے مطلب ہے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ علم کے حصول کی کوشش کرو۔اگر تم یہ کوشش کرتے رہو گے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرتے رہو گے کیونکہ وسعت علمی کی وجہ سے یعنی اُس علم کی وجہ سے جو خدا تعالیٰ کی پہچان کی طرف مائل کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ذات کا ادراک بڑھتا ہے۔اور اس ادراک کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنتا ہے ایک انسان جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر: 29) کہ یقیناً حقیقت یہی ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اس سے ڈرتے ہیں۔پس علم میں اضافہ دل میں خشیت پیدا کرتا ہے۔یہاں اُن علماء کا ذکر نہیں ہورہا جو نام نہاد اور سطحی علماء ہیں۔سطحی علم حاصل کر کے اپنے علم سے دوسروں کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ لوگ جو جوں جوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے علم میں اضافہ ہوتا دیکھتے ہیں توں توں وسعت علمی اور خدا کی ذات کا ادراک انہیں ہوتا جاتا ہے اور جس طرف دیکھیں وہی رہ ہے تیرے دیدار کا کا حقیقی مفہوم انہیں سمجھ آتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے نا کہ ع و جس طرف دیکھیں وہی ہے تیرے دیدار کا ره سرمه چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحه (52) یہ حقیقی مفہوم ہے جو ایک عالم کو مجھ آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتا ہے اور تب پتہ چلتا ہے کہ علمی لحاظ سے لا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کا حقیقی مطلب کیا ہے۔دوسری بات جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس اقتباس سے میں نے اخذ کی ، جو بیان فرمائی آپ نے کہ لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا کہ کر اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر واضح فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہی عقیدے پیش کرتا ہے جن کا سمجھنا انسان کی حد استعداد میں داخل ہے۔تا کہ اس کے حکم تکلیف مالا يطاق میں داخل نہ ہوں۔اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد 10 صفحه 432) یعنی طاقت سے بڑھ کر نہ ہوں۔اس آیت سے پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے مومنوں کے بارے میں یہ بھی فرمایا ،