خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 9 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 9

خطبات مسرور جلد ہفتم 9 خطبہ جمعہ فرموده 2 جنوری 2009 مقرب بننے والا ان پاک اور مطہر وجودوں کے نقش قدم پر چلے تو اللہ تعالیٰ اس محبت کی وجہ سے جو آنحضرت مے کے پیاروں سے کسی کو ہے ان محبت کرنے والوں کو اپنے قرب سے نوازتا ہے۔پس یہ حقیقی محبت ہے کہ اپنے محبوب کے پیاروں سے بھی محبت ہو اور اگر اس نکتے کو مسلمان سمجھ لیں تو کبھی ایک دوسرے کے لئے نفرتوں کی دیوار میں کھڑی نہ ہوں۔یہ ٹھیک ہے کہ نفرتوں کی دیوار میں کھڑی کرنے والے جو علماء یا نام نہاد مولوی ہیں، اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اور اپنی اناؤں کی خاطر یہ دیوار میں کھڑی کرتے ہیں۔لیکن ان دیواروں کو کھڑا کرنے میں نام ان بزرگوں کا استعمال کرتے ہیں جو اپنی ساری زندگی رُحَمَاءُ بَيْنَهُمُ کی بہترین مثال بنے رہے۔پس یہ عوام الناس کے لئے بھی سوچنے کا یہ مقام ہے کہ آنکھیں بند کر کے کسی کے پیچھے چلنے کی بجائے اپنی عقل کا استعمال کریں۔آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے ہمیں جو دعا ئیں سکھائی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ کی محبت کے ساتھ ان لوگوں کی محبت بھی مانگی ہے جو اللہ تعالیٰ سے محبت میں بڑھانے کا ذریعہ بنے جیسا کہ ایک دعا میں آپ نے یہ سکھایا کہ اَللَّهُمَّ ارْزُقْنِی حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبَّهُ عِنْدِكَ نرمندی۔کتاب الدعوت باب 74/73 حدیث (3491) کہ اے اللہ! عطا کر مجھے اپنی محبت اور اس شخص کی محبت کہ میرے کام آئے اس کی محبت تیرے حضور۔اور سب سے زیادہ کام آنے والی محبت آنحضرت علی سے محبت ہے۔نفع دینے والی محبت آنحضرت مﷺ سے محبت ہے جو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے۔اور یقیناً ان لوگوں سے بھی محبت اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے جن سے آنحضرت ملے نے محبت کی۔جہاں ہمارا کام یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ہر حکم کی اور ہر کام کی پیروی کریں وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ جن سے آپ نے محبت کی ان سے ہم بھی محبت کریں۔اور بے شمار روایات ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آنحضرت نے جہاں اپنی جسمانی اور روحانی آل سے محبت کی یعنی جسمانی آل سے جن کا روحانی تعلق بھی تھا اور ہے ان سے محبت کی وہاں صرف جو روحانی اولاد تھی، آپ کے ماننے والے تھے، صحابہ تھے، ان سے بھی محبت کی۔اس کا اظہار اس سے ہوتا ہے کہ امت کے جو لوگ درود بھیجیں گے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت فرمائے گا اور اس پر آپ بے انتہا خوش ہیں۔وہی نہیں جو اس وقت کے صحابہ تھے بلکہ تا قیامت آنے والے تمام وہ لوگ جو آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کیونکہ ان سے رحمت کا سلوک فرمانا ہے تو اس بات سے آنحضرت کو بے انتہاء خوشی پہنچ رہی ہے اور خوشی تبھی پہنچتی ہے جب حقیقی محبت ہو۔اگر اس اصل کو مسلمان سمجھ جائیں تو کبھی کسی قسم کا فساد نہ ہو۔کبھی ایک دوسرے کی مسجدوں پر خودکش حملے نہ ہوں۔کبھی علماء پر ایک جگہ سے دوسری جگہ خاص طور پر محرم کے مہینہ میں جانے پر پابندیاں عائد نہ ہوں۔بہر حال ہمارا کام یہ ہے کہ ان کی بھلائی کے لئے دعائیں کرتے رہیں۔مسلمان بھی سوچیں کہ کیا وجہ ہے کہ ایک زمانہ تھا کہ جب آپس میں رحم اور ملاطفت کے نظارے نظر آتے تھے اور آج مختلف گروپوں