خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 226
226 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم تو ایسے معاملات جن میں انسان کو اختیار نہ ہو اس میں کامل عدل تو ممکن نہیں لیکن جو انسان کے اختیار میں ہے اس میں انصاف بہر حال ضروری ہے۔اور ظاہری انصاف جیسا کہ میں بتا آیا ہوں کہ کھانا، پینا، کپڑے، رہائش اور وقت وغیرہ سب شامل ہیں۔اگر صرف خرچ دیا اور وقت نہ دیا تو یہ بھی درست نہیں اور صرف رہائش کا انتظام کر دیا اور گھریلو اخراجات کے لئے چھوڑ دیا کہ عورت لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتی پھرے تو یہ بھی درست نہیں ہے۔پس ظاہری لحاظ سے مکمل ذمہ داری مرد کا فرض ہے۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور اس کا جھکاؤ صرف ایک طرف ہوا اور دوسری کو نظر انداز کرتا ہو تو قیامت کے دن اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اس کا ایک حصہ جسم کا کٹا ہوا یا علیحدہ ہوگا۔( سنن نسائی کتاب عشرۃ النساء باب میل الرجل حدیث نمبر 3942) پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تقویٰ یہ ہے کہ ظاہری حقوق دونوں کے ادا کرو اور کسی بیوی کو بھی اس طرح نہ چھوڑ و کہ وہ بیوی ہونے کے باوجود ہر حق سے محروم ہو۔نہ اسے علیحدہ کر رہے ہو اور نہ اس کا حق صحیح طرح ادا کیا جا رہا ہو۔ایک مومن کا وطیرہ یہ نہیں ہونا چاہئے۔پس مومن کا فرض ہے کہ ان کاموں سے بچے جن سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اپنی اصلاح کرے۔بعض ایسی شکایات آتی ہیں کہ ایک بیوی کی طرف زیادہ توجہ دی جارہی ہے اور دوسری بیوی کو چھوڑا گیا ہے اور پھر بعض دفعہ کسی بیوی کی بعض باتوں کا بہانہ بنا کر یہ کہا جاتا ہے بلکہ دونہ بھی ہوں تو ایک شادی کی صورت میں بعض عائلی جھگڑے ایسے بھی آتے ہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ نہ میں تمہیں چھوڑوں گا یا طلاق دوں گا اور نہ ہی تمہیں بساؤں گا۔اگر قضاء میں یا عدالت میں مقدمات ہیں تو بلاوجہ مقدمہ کو لمبالٹکایا جاتا ہے۔ایسے حیلے اور بہانے تلاش کئے جاتے ہیں کہ معاملہ لکھتا چلا جائے۔بعض کو اس لئے طلاق نہیں دی جاتی، پہلے میں کئی دفعہ ذکر کر چکا ہوں، کہ یہ خود خلع لے تا کہ حق مہر سے بچت ہو جائے ، حق مہر ادا نہ کرنا پڑے۔تو یہ سب باتیں ایسی ہیں جو تقویٰ سے دور لے جانے والی ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی اصلاح کرو، اگر تم اپنے لئے اللہ تعالیٰ کے رحم اور بخشش کے طلب گار ہو تو خود بھی رحم کا مظاہرہ کرو اور بیوی کو اس کا حق دے کر گھر میں بساؤ۔اگر اللہ تعالیٰ کے وسیع رحم سے حصہ لینا چاہتے ہو تو اپنے رحم کو بھی وسیع کرو۔جو میں نے آیت پڑھی تھی اس سے اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللهُ كُلَّا مِنْ سَعَتِهِ۔وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا ( النساء:131) اور اگروہ دونوں الگ ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اس کی تو فیق کے مطابق غنی کر دے گا اور اللہ بہت وسعتیں دینے والا اور حکمت والا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ