خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 224 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 224

224 خطبہ جمعہ فرموده 15 مئی 2009 خطبات مسرور جلد هفتم قرآن کریم میں اگر اللہ تعالیٰ نے ایک سے زیادہ شادی کا حکم دیا ہے تو بعض شرائط بھی عائد فرما ئیں۔یہ بھی اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے اور آنحضرت ﷺ پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ ایک سے زیادہ شادی کی اجازت دے کر عورت پر ظلم کیا گیا ہے۔یا صرف مرد کے جذبات کا خیال رکھا گیا ہے صرف۔اس بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے، کھلا حکم نہیں ہے۔فرمایا وَاِن خِفْتُمُ الَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتمى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمُ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنى وَثُلث وَرُبَعَ۔فَإِنْ خِفْتُمُ إِلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً اَوْمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمُ۔ذَلِكَ أَدْنَى اَلَّا تَعُولُوا ( النساء:4) اور اگر تم ڈرو کہ تم بتامی کے بارے میں انصاف نہیں کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند آئیں ان سے نکاح کرو۔دو دو اور تین تین، چار چار لیکن اگر تمہیں خوف ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو پھر صرف ایک کافی ہے یا وہ جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔یہ طریق قریب تر ہے کہ تم نا انصافی سے بچو۔اس آیت میں ایک تو یتیم لڑکیوں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے کہ تیموں سے بھی شادی جب کرو تو ظلم کی وجہ سے نہ ہو بلکہ ان کے پورے حقوق ادا کر کے شادی کرو اور پھر شادی کے بعد ان کے جذبات کا خیال رکھو اور یہ خیال نہ کرو، یہ کبھی ذہن میں نہ آئے کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔تو جس طرح چاہے ان سے سلوک کر لیا جائے۔اور اگر اپنی طبیعت کے بارہ میں یہ خوف ہے، یہ شک ہے کہ انصاف نہیں کر سکو گے تو آزاد عورتوں سے نکاح کرو ، دو، تین یا چار کی اجازت ہے لیکن انصاف کے تقاضوں کے ساتھ۔اگر یہ انصاف نہیں کر سکتے تو ایک سے زیادہ نہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ : یتیم لڑکیاں جن کی تم پرورش کرو ان سے نکاح کرنا مضائقہ نہیں۔لیکن اگر تم دیکھو کہ چونکہ وہ لاوارث ہیں، شاید تمہارا نفس ان پر زیادتی کرے تو ماں باپ اور ا قارب والی عورتیں کرو جو تمہاری مؤدب رہیں اور ان کا تمہیں خوف رہے۔ایک دو تین چار تک کر سکتے ہو بشر طیکہ اعتدال کرو۔اگر اعتدال نہ ہو تو پھر ایک ہی پر کفایت کرو۔گو ضرورت پیش آوے۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 337) گوضرورت پیش آوئے۔یہ بڑا با معنی فقرہ ہے۔اب دیکھیں اس زمانہ کے حکم اور عدل نے یہ کہہ کر فیصلہ کر دیا کہ تمہاری ضرورت جس کے بہانے بنا کر تم شادی کرنا چاہتے ہو، تمہاری ضرورت جو ہے وہ اصل اہمیت نہیں رکھتی بلکہ معاشرے کا امن اور سکون اور انصاف اصل چیز ہے۔آج کل کہیں نہ کہیں سے یہ شکایات آتی رہتی ہیں کہ بچے ہیں، اولاد ہے لیکن خاوند مختلف بہانے بنا کر شادی کرنا چاہتا ہے۔تو پہلی بات تو یہ ہے کہ فرمایا اگر انصاف نہیں کر سکتے تو شادی نہ کرو اور انصاف میں ہر قسم کے حقوق کی