خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 8 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 8

خطبات مسرور جلد ہفتم 8 خطبہ جمعہ فرموده 2 جنوری 2009 وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی غیبت حسن سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یکدفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے۔یہ کشفی حالت طاری ہوئی اور چند لوگوں کے چلنے کی وہ آواز آئی جو جوتی پہننے سے آتی ہے۔” پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے۔یعنی جناب پیغمبر خدا اللہ حضرت علی و حسنین و فاطمہ زہرار ضِيَ اللهُ عَنْهُمُ أَجْمَعِينَ اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یا د پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفسیر قرآن ہے جس کو علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تالیف کیا ہے اور اب علی وہ تفسیر تجھ کودیتا ہے فالحمد للہ علی ذلک۔( براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 598-599- حاشیه در حاشیہ نمبر 3) اب یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا کشف تھا۔اسے بھی بعض غیر تو ڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نعوذ باللہ حضرت فاطمہ کی ہتک کی ہے تو یہ اصل میں ان اعتراض کرنے والوں کی بدفطرت ہے جو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ یہ فقرہ کہہ کے ہتک کی گئی ہے۔فتنہ پیدا کرنے والے جو مولوی ہیں یہ عام لوگوں کو پورا فقرہ نہیں بتاتے ، ( اور عوام جہالت کی وجہ سے یا ان لوگوں نے پڑھا پڑھا کے اتنا اندھا کر دیا ہے کہ وہ سنا اور دیکھنا ہی نہیں چاہتے کہ اصل چیز کیا ہے۔) یہ صرف اتنا فقرہ بتاتے ہیں کہ مرزا صاحب نے یہ لکھ دیا کہ حضرت فاطمہ نے میرا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔کیونکہ گند خود اُن کے ذہنوں میں بھرا ہوا ہے اس لئے اس گند سے یہ باہر نکل ہی نہیں سکتے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو فرمایا ہے کہ نہایت محبت و شفقت سے ما در مهربان کی طرح عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا۔اب مادر مہربان کا کیا مطلب ہے؟ مہربان ماں ، اس مہربان ماں کے لفظ کے ساتھ کوئی گندہ خیال ابھر سکتا ہے؟ یہ صرف اور صرف اگر ابھر سکتا ہے تو ان گندے اور بدفطرت مولویوں کے ذہنوں میں۔یہ ضمناً ذکر آ گیا اس لئے میں نے وضاحت کر دی۔تو یہ سارے کشف اور الہام ہیں ایک تو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مسیح و مہدی ہونے کے مقام کے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ یہ اسی درود کی وجہ سے تھا جو آپ آنحضرت علیہ سے بے پناہ عشق کی وجہ سے آپ ﷺ پر بھیجتے تھے۔دوسرا آپ فرماتے ہیں کہ یہ جو الہام ہے۔صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ اس میں ایک راز یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے انوار سے فیض حاصل کرنا ہے تو اہل بیت سے محبت کرنا بھی ضروری ہے۔اور اللہ تعالیٰ کے مقرب بننے کے لئے ان پاک اور مطہر لوگوں کی وراثت پانا بھی ضروری ہے۔پس یہ لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا