خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 215 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 215

215 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 بچوں کے معاش کے ختم ہونے سے ڈرایا جاتا ہے لیکن وہ قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔وہ کبھی اس بہکاوے میں نہیں آتے۔اسی طرح اور کئی قسم کی قربانیاں ہیں جو انسان کی زندگی میں آتی ہیں جن سے شیطان ڈراتا ہے۔پھر وقت کی قربانی کی مثال ہے۔یہ تو ہر احمدی جانتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو احمدی بھی نظام جماعت سے منسلک ہیں وہ کچھ نہ کچھ وقت جماعت کے لئے دیتے ہیں اور کچھ نہیں تو اجلاسوں پر، اجتماعوں پہ اور جلسوں پر ہی کچھ وقت دے رہے ہوتے ہیں اور ہر ہفتے بہت بڑی اکثریت ہے جو اپنے وقت کی قربانی کر کے جمعہ پڑھنے آتی ہے اور شیطان جو روکتا ہے اس کے وسوسوں کی پرواہ نہیں کرتی۔لیکن بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو جمعوں میں اور بعض اوقات عیدوں پر بھی نہیں آرہے ہوتے اور اپنے کاروبار پر یہ عبادتیں قربان کر رہے ہوتے ہیں اور جو نمازوں کی حالت ہے وہ تو قابل فکر حالت ہے، احمدیوں میں بھی بہت بڑی تعداد ہے جو وقت کی اس قربانی کی طرف توجہ نہیں دیتی۔عبادت کی سستی کی وجوہات ہیں اور اس میں سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ اپنے کاموں میں، اپنے کاروباروں میں مشغول ہیں اور اس دوران میں نمازیں پڑھنے کے لئے وقت قربان نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم قربانیاں کر رہے ہوتے ہو تو شیطان تمہیں مختلف طریقوں سے ڈراتا ہے۔کبھی غربت سے ڈرا کر نماز کے لئے وقت کو قربان کرنے سے روکتا ہے۔کبھی کسی طریقے سے قربانی سے روکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک حقیقی مومن ہونے کی حیثیت سے اس سے ہوشیار رہو۔بہر حال اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے کے لئے شیطان کے مختلف طریقے ہیں جو وہ بندوں پر استعمال کرتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک طرف تو غربت کا خوف دلا کر تمہیں ان قربانیوں سے شیطان روکتا ہے لیکن دوسری طرف فحشاء کی ترغیب دے کر وقت اور مال وغیرہ کو خرچ بھی کر والیتا ہے۔جو دنیا دار ہیں اس کے بہکاوے میں آکران چیزوں پر مال خرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ایک غیر مومن جو ہے ، ایک دنیا دار جو ہے اس کو شیطان دنیا وی لہو و لعب میں خرچ کرنے کے لئے ابھارتا رہتا ہے۔جوئے پر ،شراب پر، اور دوسری اس قسم کی بیہودگیوں پر شیطان کے ، چلنے والے جو ہیں بے تحاشا خرچ کرتے ہیں اور انہیں احساس نہیں ہوتا کیونکہ شیطان اس بات کی طرف جو عارضی مزے اور لذت ہے ایسے ایسے طریقے سے توجہ دلا رہا ہوتا ہے کہ انسان بھول جاتا ہے کہ وہ غلط کام کر رہا ہے اور شیطان کے پیچھے چل رہا ہوتا ہے۔پس مومنوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا که وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطن کہ شیطان کے قدموں پر مت چلو۔کیونکہ وہ پوری کوشش میں ہے کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور کر دے۔اس سے کبھی خیر کی امید نہ رکھو۔بلکہ یہ سوچنا بھی انتہائی جہالت ہے کہ شیطان سے کوئی خیر مل سکتی ہے۔کیونکہ اس کا کام تو ہے ہی یہ کہ فحشاء اور نا پسندیدہ باتوں کی طرف بندے کو لے کر جائے۔اگر ہم ایک دنیا دار آدمی سے یہ پوچھیں کہ تمہارے ذہن میں شیطان کا کیا تصور ہے؟ تو وہ یہی کہے گا کہ اللہ اس سے بچا کر رکھے۔لیکن اس کے باوجود جو