خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 207 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 207

207 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کر لیتی ہے۔جیسے تالاب وغیرہ ہیں۔اس پانی سے براہ راست تو اس زمین کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا کوئی چیز اس سے پیدا نہیں ہو رہی ہوتی۔لیکن اس پانی سے جو وہاں جمع ہو جاتا ہے جانور پینے کے لئے فائدہ اٹھاتے ہیں، انسان بھی پینے کے لئے فائدہ اٹھاتے ہیں اور پینے کے علاوہ کھیتی باڑی کے لئے بھی یہ پانی استعمال ہورہا ہوتا ہے۔پھر فرمایا کہ تیسری قسم کی زمین وہ ہے جو سخت پتھریلی ہوتی ہے۔مسطح ہوتی ہے۔ہموار ہوتی ہے یا ایسی ڈھلوان ہوتی ہے کہ جس سے پانی بہہ جائے کوئی اس میں گڑھا نہیں ہوتا۔وہ پانی کو نہ اپنے اندر جذب کرتی ہے نہ اس میں پانی کھڑا ہوتا ہے۔تو ایسی زمین جو ہے وہ پانی سے نہ خود فیض پاتی ہے نہ اپنے اندر روک کر دوسروں کو اس سے فیض پہنچ رہا ہوتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ پہلی طرح کی جو زمین ہے اس کی مثال جو پانی جذب کر کے پھر اپنی فصلیں پیدا کر کے فائدہ پہنچاتی ہے اس عالم کی طرح، اس شخص کی طرح ہے جو نہ صرف خود دین حاصل کرتا ہے علم حاصل کرتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس علم اور دین سے جو اس نے حاصل کیا ہو۔فائدہ اور فیض پہنچاتا ہے۔اور فرمایا کہ تیسری قسم کا آدمی اس پتھریلی زمین کی طرح ہے۔جس پر نہ پانی ٹھہرتا ہے اور نہ جس میں جذب ہوتا ہے۔روحانی بارش نہ اس کو کچھ فیض پہنچاتی ہے نہ دوسرے اس سے کوئی فائدہ حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔( بخاری کتاب العلم باب فضل من علم و علم حدیث (79) اور دوسری قسم کی زمین کی مثال آپ نے بیان نہیں فرمائی لیکن اس کی پانی کی پہلی مثال دے کر اس سے ظاہر ہے کہ یہی مطلب ہے اس کا جو اس کی وضاحت میں پہلے بیان فرمایا کہ ایسے تالاب جو خود تو فائدہ نہیں اٹھا ر ہے ہوتے ان علوم سے لیکن دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں کہ ایسا شخص جو دین اور علم تو سیکھتا ہے لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتا لیکن دوسروں کو جو علم اور دین اس نے سیکھا ہے سکھاتا ہے اور اس کے سکھانے سے بعض نیک فطرت اس پر عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ جب اپنے مامور بھیجتا ہے تو ان کے روحانی پانی سے یہی تین قسم کے گروہ ہیں جو سامنے آتے ہیں۔پس ایک حقیقی مومن کو کوشش کرنی چاہئے کہ پہلی قسم میں شامل ہونے کی کوشش کرے۔خود بھی فائدہ اٹھائے اور دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی طرف توجہ دے۔اپنی نسلوں میں بھی ، اپنے ماحول میں بھی ، ایسی فصلیں لگا ئیں جو انسانیت کو فیض پہنچانے والی ہوں تبھی النافع خدا کے فضلوں سے حقیقی رنگ میں ہم فائدہ اٹھانے والے ہوں گے ،فیض حاصل کرنے والے بن سکیں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَبَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ اور ہر قسم کے چلنے پھرنے والے جانور پھیلائے یہ بھی تمہارے لئے نفع۔پھر جانوروں کا پھیلانا بھی اللہ تعالیٰ کے احسانوں میں سے ایک احسان ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف جگہوں میں ذکر فرمایا ہے۔جیسے فرماتا ہے کہ والا نُعَامَ خَلَقَهَا لَكُمْ فِيهَا دِفْءٌ وَمَنَافِعُ وَمِنْهَا تَأكُلُونَ۔وَلَكُمْ فِيْهَا جَمَالٌ حِيْنَ تُرِيحُونَ وَحِيْنَ تَسْرَحُونَ ( انحل 6-7) کہ مویشیوں کو بھی اس