خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 200
خطبات مسرور جلد ہفتم 18 200 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 فرمودہ مورخہ یکم مئی 2009 ء بمطابق یکم ہجرت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے اللہ تعالیٰ کی صفت النافع کے حوالے سے بتایا تھا اصل نفع پہنچانے والی ذات، خدا تعالیٰ ہی ہے اسی لئے اسی کی عبادت کرو۔یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میری عبادت کرو۔اس دنیا میں بھی اس کے فضلوں کے وارث بنو گے اور مرنے کے بعد کی زندگی میں بھی اس کے فضلوں کے وارث بنو گے۔اور پھر فرمایا کہ عبادت کے ساتھ ساتھ اُن تمام احکامات پر عمل کرو جن کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں صرف یہی نہیں کہا کہ کیونکہ تمام قسم کا نفع میری ذات سے وابستہ ہے اس لئے میری عبادت کرو اور شکر گزار بنو بلکہ فرمایا کہ کائنات اور اس کے اندر کی ہر چیز میری پیدا کردہ ہے اور میرے اذن سے ہی یہ نفع رساں بھی ہے یا نقصان پہنچانے والی بن سکتی ہے۔اللہ فرماتا ہے کہ وہ تمام چیزیں جن پر تمہاری زندگی کا انحصار ہے ان کا پیدا کرنے والا میں ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں رَبُّ الْعَالَمِین ہوں اور جب رَبُّ الْعَالَمِین میں ہی ہوں تو پھر کہیں اور سے نفع ملنے کا یا نفع حاصل کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: خدا تعالیٰ کی ربوبیت یعنی پیدا کرنا اور کمال مخلوق تک پہنچانا تمام عالموں میں جاری وساری ہے“۔ایام الصلح روحانی خزائن جلد نمبر 14 صفحہ 248) تو یہ ہے خدا تعالیٰ کی ربوبیت کہ صرف پیدا نہیں کیا بلکہ مخلوق کے لئے جس انتہاء تک اسے پہنچانا ضروری ہو وہاں تک پہنچاتا ہے اور یہ کارخانہ قدرت اپنی پیدائش کے بعد ہر روز اپنی ایک شان ظاہر کر رہا ہے۔انسان کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے تجسس رکھا ہے تحقیق رکھی ہے اس لئے اللہ تعالیٰ انسان پر ان تمام پر عالموں پر تحقیق کے نتیجہ میں نئے سے نئے اظہار فرماتا ہے۔ان عالموں میں آسمانی عالم بھی ہیں جن میں مختلف قسم کے ستارے اور سیارے شامل ہیں۔ان میں زمینی عالم بھی شامل ہے۔جس میں زمین کے اندر کے مختلف خزانے ہیں۔زمین کے اندر بھی ایک عالم بسا ہوا ہے، ایک دنیا ہے۔زمین کی صرف ظاہری شکل نہیں ہے جس پر سائنسدان تحقیق کر کے قدرت کے عجیب جلووں سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں۔