خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 196
196 خطبہ جمعہ فرمودہ 24 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد هفتم شامل حال ہوتی ہے جب اس کے محبوب ترین بندے کے وسیلے سے اس سے دعائیں مانگی جائیں اور یہ اس وقت ہو گا جب ہم آنحضرت ﷺ کے اسوہ پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہوں گے اور جب یہ ہو گا تو پھر ہی ہمارا عمل منافع بخش عمل کہلائے گا۔ایک دعا جو آنحضرت ﷺ نے سکھائی وہ یہ ہے۔حضرت عبداللہ بن یزید الا انصاری روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی دعا میں یہ الفاظ بھی فرمایا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور اس شخص کی محبت عطا کر جس کی محبت مجھے تیرے حضور نفع دے۔اے میرے اللہ ! میری پسندیدہ چیزوں میں سے جو تو نے مجھے عطا کی ہیں ان میں سے جو تجھے پسند ہیں ان کو میری قوت کا ذریعہ بنا۔اے میرے اللہ ! میری پسندیدہ چیزوں میں سے جو تو نے مجھ سے دور رکھی ہیں تو ان سے مجھے فراغت عطا کر اور وہ چیزیں میری محبوب بنا جو تجھے پسند ہیں۔(سنن الترمذی۔ابواب الدعوات۔باب 73/74 حدیث نمبر 3491) خدا تعالیٰ کو دنیا میں آنحضرت ﷺ سے زیادہ تو کوئی محبوب نہیں۔اس لئے ہمیشہ آپ کے وسیلے سے جیسا کہ میں نے کہا، دعامانگنی چاہئے کہ جو اللہ تعالیٰ کا محبوب ہے وہ ہمارا محبوب بن جائے اور اس ذریعہ سے ہمیں بھی وہ فیض حاصل ہوتے رہیں جس کے قائم کرنے کے لئے ، جس کے پھیلانے کے لئے آنحضرت ملی ہے اس دنیا میں تشریف لائے تھے۔انسان کے نفع رساں ہونے کے لئے قرآن کریم کے اس ارشاد کہ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّحَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ( آل عمران : 93) کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسطے علم تعبیر الرویا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقاء اور ایمان کے حصول کے لئے فرمایا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: 193) حقیقی نیکی کو ہرگز نہ پاؤ گے جب تک تم عزیز ترین چیز نہ خرچ کرو گے کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے۔یعنی اپنے ہم قوم ، اپنے ہم وطن انسانوں کی اور مخلوق خدا کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے۔جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا۔جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیونکر پہنچا سکتا ہے۔دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لئے ایثار ضروری شے ہے اور اس آیت میں لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّون ( آل عمران : 93) میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔فرمایا کہ پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے۔محك كا مطلب کسوٹی یا معیار ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 367-368 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )