خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 5
5 خطبہ جمعہ فرمودہ 2 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پر خوشی کے آثار ہیں۔فرمایا ہاں۔اللہ کی طرف سے ایک فرشتے نے آ کر مجھے کہا ہے کہ تمہاری امت میں سے جو شخص تم پر ایک بار عمدگی سے درود بھیجے گا اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ اس کی دس نیکیاں لکھے گا ( اور یہاں آپ نے فرمایا کہ عمدگی سے درود بھیجے گا ) اور اس کی دس بدیاں معاف فرمائے گا۔اور اُسے دس درجے بلند کرے گا۔اور ویسی ہی رحمت اس پر نازل کرے گا جیسی اس نے تمہارے لئے مانگی ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 5 مسند ابی طلحہ انصاری حدیث 16466 عالم الكتب بيروت لبنان 1998ء ) | آنحضرت ﷺ کی خوشی امت پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے اظہار کی وجہ سے تھی۔پس ہمارا کام ہے کہ اس رحمت کو لینے کے لئے آگے بڑھیں۔خالص ہو کر آنحضرت ﷺ پر درود بھیجیں۔اپنے گناہوں کی معافیوں کے بھی سامان کریں اور آئندہ نیکیاں کرنے کی توفیق ملنے کی بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جذب کرتے ہوئے اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کے سامان کریں۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت علی فرمایا ہے جو شخص مجھ پر درود بھیجے گا قیامت کے روز میں اس کی شفاعت کروں گا۔نے (جلاء الافہام - صفحہ 70 ادارة الطباعة المنيرية 1375ھ ) پس یہ مقام درود بھیجنے والے کو ملتا ہے۔درجے بلند ہو رہے ہیں۔گناہ معاف ہورہے ہیں۔پھر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں اس کی شفاعت کروں گا۔لیکن کیا آنحضرت ﷺ پر درود بھیجنے والے، جس کے لئے آنحضرت له شفاعت کریں گے، اس کے دل میں دوسرے مسلمان کے لئے کوئی بغض اور کینہ ہوسکتا ہے؟ کیا ایسے لوگوں کی شفاعت ہوگی ؟ اور پھر کیا جب ہم اللهُمَّ صَلَّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ کہتے ہیں تو آنحضرت ﷺ کی آل کے خلاف کوئی کینہ اور بغض دل میں ہو سکتا ہے؟ اور کیا آپ کے صحابہ کے خلاف کوئی کینہ اور بغض کسی کے دل میں ہو سکتا ہے؟ اگر اس بات کو ہر مسلمان سمجھ لے تو آپس کی لڑائیاں، رنجشیں اور فساد خود بخودختم ہو جا ئیں کہ آنحضرت علی کی شفاعت کے لئے اور درجات بلند کر وانے کے لئے درود کا حق ادا کرنا ہوگا اور حق ادا کرنے کے لئے ہمیں آپس کے کینے اور بغض بھی ختم کرنے ہوں گے۔کیونکہ ہم امت کے فرد ہیں۔کیا آنحضرت ﷺ کی شفاعت ان لوگوں کے لئے ہوگی جو منہ سے تو درود پڑھ رہے ہوں گے اور دل ان کے کٹے پھٹے ہوں گے۔آنحضرت علیے تو دلوں کو جوڑنے کے لئے آئے تھے۔آپ کے ماننے والوں کے بارے میں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ( فتح: 30) یعنی آپس میں ایک دوسرے کے لئے رحم اور ملاطفت کے جذبات رکھتے ہیں۔لیکن کیا آج مسلمانوں کی ایسی حالت ہے کہ رحم کے جذبات ایک دوسرے کے لئے رکھتے ہوں۔یہ محرم کا مہینہ ہے۔ہر سال ہم خبریں سنتے ہیں کہ فلاں جگہ شیعوں کے تعزیہ پر حملہ کیا گیا۔فلاں جگہ امام باڑے