خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 180
180 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبہ جمعہ فرموده 10 اپریل 2009 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آسمان وزمین کی پیدائش میں بھی اگر غور کرو تو ایک نئی شان ہے۔دوسرے سیاروں کو تو ابھی ہم نے دُور سے ہی دیکھا ہے اور سائنسدانوں نے کچھ اپنے علم کے مطابق کچھ اندازے لگا کر، کچھ دھندلی سی تصویریں دیکھ کر ہمیں ان کے بارہ میں بتایا لیکن ان کی گہرائی کا ہمیں پتا نہیں لیکن یہ زمین جو ہے، جس میں خدا تعالیٰ نے ہمیں آباد کیا اس زمین میں ہی عجیب عجیب نظارے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور صناعی کے نظر آتے ہیں۔پس یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان اور پھر اس پر جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ آیات جو اُس زمانے میں آج سے 15،14 سو سال پہلے عرب کے صحرا میں ایک ایسے انسان پر اتریں جس کو دنیا کا علم نہیں تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے علم سے اپنی کتاب اتار کر، اپنا کلام اتار کر اسے کامل انسان بنا دیا تھا۔اس نے پھر ہمیں بتایا اور پھر یہ بات بے اختیار اسلام کی سچائی اور آنحضرت ﷺ کی سچائی پر ایک یقین قائم کرتی ہے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے اُس زمانے میں جب سائنس کو ترقی نہیں تھی، اُس وقت زمین اور آسمان کی پیدائش کے بارے میں بڑے گہرے گہرے راز بتائے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان چیزوں کو دیکھ کر جو ایک مؤمن انسان ہے پھر یہ بے اختیار کہتا ہے کہ مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا۔سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔اے اللہ تعالیٰ تو نے ساری چیزیں ایسی پیدا کی ہیں جو جھوٹ نہیں ہیں۔پس ہمیں کبھی ایسا نہ بنا جو اس کو جھوٹ سمجھنے والے ہوں ، غلط سمجھنے والے ہوں۔اور پھر ہم اس کی وجہ سے تیری عبادت سے بے اعتنائی کرنے والے ہوں۔تیری عبادت نہ کرنے والے ہوں اور نیچے پھر تیرے عذاب کے مورد بنیں۔پس قرآن شریف جو ہم پڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی سائنس کے بارے میں یہ چیز میں اور اپنی پیدائش کے بارہ میں جب ان آیات پر غور کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان اور مضبوط ہوتا ہے اور اسلام کی سچائی اور زیادہ ہم پر واضح ہوتی ہے۔پس ہر احمدی کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بھی پیدائش کی ہے وہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کے وجود کا ایک ثبوت ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نہیں ہے اگر وہ دیکھیں تو اللہ تعالیٰ کی زمین پر ہی بے شمار مخلوق ہے جو اللہ تعالیٰ کے وجود کی نشاندہی کر رہی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔پھر اس کے آگے فرماتا ہے الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِم اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جل شانہ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔یہ گمان نہ کرنا چاہئے کہ عقل و دانش ایسی چیز ہیں جو یونہی حاصل ہو سکتی ہیں۔نہیں بلکہ سچی فراست اور کچی دانش اللہ تعالی کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی، حقیقی معقل اسی کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھکتا ہے اس سے مدد مانگتا ہے اور اس کی صناعی پر ، اس کی مخلوق پر ، اس کی پیدائش پر غور کرتا ہے۔فرمایا کہ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو۔مومن جو ہے وہ بڑا فراست والا ہوتا ہے۔کیونکہ وہ الہی نور سے