خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 176 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 176

خطبات مسرور جلد هفتم 176 خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہماری جماعت کو سر سبزی نہیں آئے گی جب تک وہ آپس میں سچی ہمدردی نہ کریں۔جس کو پوری طاقت دی گئی ہے وہ کمزور سے محبت کرے۔میں جو یہ سنتا ہوں کہ کوئی اگر کسی کی لغزش دیکھتا ہے تو وہ اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا بلکہ نفرت اور کراہت سے پیش آتا ہے۔حالانکہ چاہئے تو یہ کہ اُس کے لئے دعا کرے، محبت کرے اور اسے نرمی اور اخلاق سے سمجھائے۔مگر بجائے اس کے کینہ میں زیادہ ہوتا ہے۔اگر عفونہ کیا جائے ، ہمدردی نہ کی جاوے اس طرح پر بگڑتے بگڑتے انجام بد ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہیں۔جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے، پردہ پوشی کی جاوے۔جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 264-265 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اس طرح ایک دوسرے کا اعضاء بن جانا چاہئے۔پس ہم جو اس زمانہ میں آنحضرت مے کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہیں۔ہم جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق اس زمانہ کے منادی کو بھی قبول کیا ہے۔ہم جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ اس غلام صادق اور امام الزمان کو مانے بغیر اب ایمان کے اعلیٰ معیار حاصل نہیں ہو سکتے۔ہم جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے کہ اس مسیح و مہدی پر ایمان لایا جائے۔ہم جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو اب مسیح محمدی کے ذریعہ سے دنیا میں رائج ہونا ہے تو پھر ہمیں اپنی عبادتوں پر بھی نظر رکھنی ہو گی ، اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنی ہوگی ، ان تمام گناہوں پر بھی نظر رکھنی ہو گی جن کی اللہ تعالیٰ نے نشاندہی فرمائی ہے۔اپنی حیاؤں کے معیار بھی بلند کرنے ہوں گے۔اپنے غیظ و غضب کو بھی گھٹانا ہوگا تا کہ جہاں اللہ تعالیٰ کی ستاری سے حصہ لینے والے بنیں وہاں دنیا کے لئے بھی ایک نمونہ بن جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس قرآنی دعا کا وارث بنائے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رَبَّنَا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَيَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( آل عمران : 194) کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ بخش اور ہم سے برائیاں دور کر دے۔ہماری ساری برائیوں کو اس طرح ڈھانپ دے جیسا ہم نے کبھی کی ہی نہیں تھیں۔وَتَوَفَّنَا مَعَ الابرار اور ہمیں نیکیوں کے ساتھ موت دے۔ہمیں ان میں شمار کر جن پر تیرے پیار کی نظر پڑتی ہے اور ہم تیرا پیار حاصل کرنے والے بنیں اور ہم ہمیشہ تیری ستاری سے حصہ پاتے چلے جانے والے ہوں۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔الفضل انٹر نیشنل جلد 16 شمارہ 17 مورخہ 24، اپریل تا30 ، اپریل 2009ء صفحہ 5 تا صفحہ 8)