خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 165
165 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم أَلِيمٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ (النور : 20) یقیناً جو لوگ چاہتے ہیں کہ مومنوں میں بدی پھیل جائے ان کے لئے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔اب دیکھیں کہ باوجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ حیا پسند کرتا ہے پردہ پوشی پسند کرتا ہے اپنے بندوں کو بخشا پسند کرتا ہے۔لیکن ایسے لوگوں کے لئے جو پردہ دری کرنا چاہتے ہیں جو اس وجہ سے دنیا میں بے حیائی کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔جو مومنوں میں ایک بدی کے اظہار سے بدی پھیلانا چاہتے ہیں۔اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو باتیں کر کے پھیلاتے ہیں اور وہ لوگ بھی جو سر عام کرنے والے ہیں۔تو ان کے متعلق فرمایا کہ ان کو دنیا اور آخرت میں عذاب کی خبر ہے۔کیونکہ جب معاشرے میں سر عام برائیاں پھیلیں گی۔ان کے چرچے ہونے لگ جائیں گے اور ایک دوسرے کے ننگ ظاہر کرنے شروع کر دیے جائیں گے تو پھر حیا کے معیار ختم ہو جاتے ہیں۔اس معاشرہ میں جو یہ مغربی معاشرہ ہے اس میں جو سر عام بعض حرکتیں ہوتی ہیں وہ اس لئے ہیں کہ حیا نہیں رہی اور اب تو ٹیلی ویژن اور دوسرے میڈیا نے ساری دنیا کو اسی طرح بے حیا کر دیا ہے اور اسے آزادی کا نام دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے تنگ اور بے حیائی جو ہے وہ اگلی نسلوں میں بھی منتقل ہوتی چلی جارہی ہے۔اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض دفعہ بعض جگہ بعض احمدی بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔اسی لئے اسلام نے پردہ اور حیا پر بہت زور دیا ہے اور ساتھ ہی دوسروں کو بھی کہہ دیا ہے کہ تم ان کے عیب تلاش کرنے کی جستجو نہ کرو اور پھر اس کو پھیلاؤ نہ۔اگر کسی کا کوئی عیب علم میں آجاتا ہے اور یہ اتنا بے حیا ہے کہ سامنے بھی کر رہا اور بار بار اس کو پھیلاتا بھی چلا جارہا ہے۔تو جماعتی نظام ہے، متعلقہ عہدیدار ہے، یا نظام کو اس کی اطلاع کر دو اور خاموش رہو۔تم نے اپنا فرض پورا کر دیا اور اس کے لئے دعا کرو۔اگر تم باتیں کر کے ، باتوں کے مزے لے کے اس جرم کو پھیلانے کا موجب بن رہے ہو تو پھر تقوی سے دور جارہے ہو اور اگر بالفرض کسی کے بارے میں کوئی برائی اتفاق سے علم میں آجائے اور اس کے بعد اس شخص نے اس برائی سے تو یہ بھی کرلی ہو لیکن پھر بھی کسی مخالفت کی وجہ سے کسی موقع کے ہاتھ آجانے پر، اس برائی کا علم کسی شخص کو ہو جاتا ہے اور وہ اس کی تشہیر کرتا ہے تو وہ نہ صرف پردہ دری کا مرتکب ہورہا ہے بلکہ فرمایا کہ چغلی کر کے تم وہ حرکت کر رہے ہو جیسے کوئی شخص اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو۔پس معاشرے کو ہر قسم کے فساد سے بچانے کے لئے اور اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کے لئے پردہ پوشی انتہائی ضروری ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اگر اصلاح کی غرض ہے تو دعا کے ساتھ متعلقہ عہد یدار کو اطلاع دینا ضروری ہے کہ برائی دیکھو جو ختم نہیں ہورہی اور پھر اس عہدیدار کا فرض بن جاتا ہے کہ بصیغہ راز تمام معاملہ رکھ کے اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اگر پھر کسی نے برائی پر ضد نہیں پکڑی تو حتی الوسع کوشش کرے ( یہ عہدیداران کا بھی کام ہے ) کہ بات باہر نہ نکلے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہماری جماعت کو چاہئے کہ کسی بھائی کا عیب دیکھ کر اس کے لئے دعا کریں۔لیکن اگر وہ دعا نہیں کرتے اور