خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 161
خطبات مسرور جلد ہفتم 161 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 پس ایک احمدی کو ان باتوں سے بچنا چاہئے۔چاہے کوئی بھی فریق ہو۔یہاں عورت کی حرمت کی مثال دی گئی ہے۔لیکن اگلی حدیث میں اس کو عمومی کیا گیا ہے۔حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ اللہ نے فرمایا کہ ” جو مومن اپنے بھائی کے عیب کو دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔(مجمع الزوائد جلد 6 صفحہ 268 - کتاب الحدود والدیات باب الستر علی المسلمین۔حدیث نمبر 10476 دار الكتب العلمیة بیروت 2001ء) یعنی عیب تلاش کرنے کی بجائے چھپائے جائیں۔اس سے دونوں طرف کے رشتہ داروں کو تنبیہ کر دی گئی ہے اور ساتھ ہی خوشخبری بھی دے دی گئی ہے کہ تو نے اپنے مسائل حل کرنے ہیں تو جائز طریقے سے کرو۔ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے نہیں۔اور اگر تم لوگ جائز طریقے سے کرو گے، ایک دوسرے کی پردہ پوشی کرو گے ( بہت سے اب جو نئے رشتے قائم ہوتے ہیں تو راز کی باتیں بھی پی لگتی ہیں ) تو اگر تعلقات خراب ہونے کی صورت میں پردہ پوشی کرو گے تو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کر دے گا۔پہلی حدیث میں تو سزا سے بچنے کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالی پردہ پوشی کرنے کی وجہ سے آگ سے محفوظ رکھے گا۔یہاں فرمایا کہ جنت میں داخل کر دے گا۔نہ صرف سزا سے بچائے گا بلکہ انعامات سے بھی نوازے گا۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے دینے کے طریقے۔پھر ایک روایت میں اس کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کے نے فرمایا: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ تو وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی مدد کے وقت اسے اکیلا چھوڑتا ہے۔اور جو اپنے بھائی کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے اللہ تعالٰی اس کی حاجت روائی میں لگا رہتا ہے۔اور جس نے کسی مسلمان سے اس کی تکلیف دُور کی تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف میں سے تکالیف دور کر دے گا۔اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے روز پردہ پوشی فرمائے گا۔( صحیح بخاری کتاب المظالم باب لا يظلم المسلم المسلم ولا یسلمہ۔حدیث نمبر 2442) تو یہ ہیں وہ معیار جوحقیقی مسلمان کے ہونے چاہئیں، ایک احمدی کے ہونے چاہئیں۔بلکہ ہم نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر جمع ہو کر بیعت کر کے ان سب برائیوں سے بچنے کا عہد بھی کیا ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کیا فرماتے ہیں۔آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ: میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں با ہم نزاعیں بھی ہو جاتی ہیں“۔(آپس میں جھگڑے ہو جاتے ہیں جماعت میں ) اور معمولی نزاع سے ایک دوسرے کی عزت پر حملہ کرنے لگتا ہے چھوٹے چھوٹے جھگڑے ہوتے ہیں لیکن ان چھوٹے جھگڑوں کی وجہ سے ایک دوسرے کی عزت پر بھی حملہ کرنے لگ جاتے