خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد ہفتم 158 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 دیتے ہیں، مگر خدا تعالیٰ کی رحیمیت اس کی پردہ پوشی فرماتی ہے اور اس کو پاس کرا دیتی ہے۔رحیمیت میں ایک قسم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 126 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا کہ: ”اسلام نے وہ خدا پیش کیا ہے جو جمیع محامد کا سزاوار ہے اس لئے معطی حقیقی ہے۔وہ رحمن ہے بڑوں عمل عامل کے اپنا فضل کرتا ہے ( یعنی اسلام نے خدا کا وہ تصور پیش کیا ہے جو ہر قسم کی تعریف کے لائق ہے تمام تعریفیں اس میں جمع ہیں۔وہی ایک ذات ہے جس میں یہ ساری صفات جمع ہوسکتی ہیں اور وہ ایسا عطا کرنے والا ہے جو حقیقی رنگ میں عطا کرنے والا ہے اور رحمانیت کے جلوے دکھاتے ہوئے عطا فرماتا ہے کہ اگر کسی نے کوئی عمل نہیں بھی کیا یا تھوڑا بہت عمل کیا ہے تب بھی وہ بیشمار نواز دیتا ہے یہ اس کی مالکیت ہے۔وہ معطی ہے ، رحمان ہے، مالکیت اس کی بعض دفعہ وہ نظارے دکھاتی ہے کہ اس کی رحمانیت کے جلوے ہمیں نظر آتے ہیں اور بلا کسی عمل کے بھی نو از تا چلا جاتا ہے اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر پردہ پوشی بھی فرما تا چلا جاتا ہے )۔اور فرمایا: ” پھر مالکیت یوم الدین جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے بامراد کرتی ہے۔دنیا کی گورنمنٹ کبھی اس امر کا ٹھیکہ نہیں لے سکتی کہ ہر ایک بی اے پاس کرنے والے کو ضرور نوکری دے گی۔مگر خدا تعالیٰ کی گورنمنٹ ، کامل گورنمنٹ اور لا انتہا خزائن کی مالک ہے۔اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔کوئی عمل کرنے والا ہو وہ سب کو فائز المرام کرتا ہے۔( کامیابی عطا فرماتا ہے ) اور نیکیوں اور حسنات کے مقابلے میں بعض ضعفوں اور سقموں کی پردہ پوشی بھی فرماتا ہے“۔( جو کمزوریاں رہ جاتی ہیں ان کی پردہ پوشی فرماتا ہے )۔وہ تو اب بھی ہے۔مُسْتَخیسی بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کو ہزار ہا عیب اپنے بندوں کے معلوم ہوتے ہیں، مگر ظاہر نہیں کرتا“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 126 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یا اپنے بندے کی ایسی حیار کھتا ہے کہ ایک حدیث میں آیا کہ اللہ تعالیٰ حیا کو پسند کرتا ہے ( مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 163 مند یعلی بن امیہ حدیث 18131 مطبوعہ عالم الكتب بيروت 1998ء ) | اور یہ حیا اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بات کو کہنے میں شرماتا ہے۔بلکہ اس لئے کہ بندے کو شرمندگی سے بچائے۔فرمایا : ”ہاں ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ بیباک ہو کر انسان اپنے عیبوں میں ترقی پر ترقی کرتا جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حیا اور پردہ پوشی سے نفع نہیں اٹھاتا۔بلکہ دہریت کی رگ اس میں زور پکڑتی جاتی ہے۔تب اللہ تعالیٰ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ اس بیباک کو چھوڑا جائے۔اس لئے وہ ذلیل کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں کہ : " غرض میرا مطلب تو صرف یہ تھا ( ایک بیان چل رہا تھا پیچھے " کہ رحیمیت میں ایک خاصہ پردہ پوشی کا بھی ہے مگر اس پردہ پوشی سے پہلے یہ بھی ضروری ہے کہ کوئی عمل ہو اور اس عمل کے متعلق اگر کوئی کمی یا نقص رہ جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رحیمیت سے اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 126-127 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )