خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 157
خطبات مسرور جلد ہفتم 157 خطبہ جمعہ فرمود ه 27 مارچ 2009 میں جونوں کا تصور نہ ہوتا کہ سزا جزا کے لئے اس دنیا میں اوراور شکلوں میں آنا ضروری ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 127-126 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس اسلام ہی اللہ تعالیٰ کی ستاری کا یہ تصور پیش کرتا ہے جس کا اظہار اس دنیا میں بھی ہوتا ہے اور اگلے جہان میں بھی۔لیکن اس سے یہ مطلب ہرگز نہیں لے لینا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ پردہ پوشی کو پسند فرمایا ہے اور بندے کو یہ کہہ کر بخش دیا کہ تمہاری میں نے اس دنیا میں بھی پردہ پوشی فرمائی تھی یہاں بھی پردہ پوشی کرتے ہوئے بخش دیتا ہوں تو اس بات سے ہم بے لگام ہو جائیں کہ بُرے اور بھلے کی تمیز نہ رہے کیونکہ بخشے تو جانا ہی ہے، کیا فرق پڑتا ہے۔برائیاں بھی کر لیں اور گناہ بھی کر لیں۔جو چاہے کرتے پھریں۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ مومنوں پر اللہ تعالیٰ کے پر دے اس قدر ہیں کہ وہ شمار سے باہر ہیں۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو ، مومن کو اس کی پردہ پوشی فرمانے کے لئے پردوں میں لپیٹا ہوا ہے۔ایک مومن جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے پردے ایک ایک کر کے پھٹتے جاتے ہیں یہاں تک کہ اگر وہ مستقل گناہ کرتا چلا جاتا ہے تو لکھا ہے کہ کوئی پردہ بھی باقی نہیں رہتا۔پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے بندے کو چھپاؤ تو وہ اپنے پروں سے اسے گھیر لیتے ہیں۔یہ دیکھیں اللہ تعالیٰ کس طرح ستاری فرما رہا ہے۔لیکن اگر انسان اللہ تعالیٰ کے سلوک پر اپنی حالت کو بدلنے کی کوشش نہ کرے تو پھر اللہ تعالیٰ کیا سلوک فرماتا ہے۔یہ ایک لمبی حدیث ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ فرشتوں کے اس بندے کو چھپانے کے بعد اگر وہ شخص توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اس کے پردوں کو جو اٹھ گئے تھے واپس لوٹا دیتا ہے بلکہ ہر پردے کے عوض مزید نو (9) پر دے عطا فرما دیتا ہے تا کہ اس کی بخشش کے سامان ہوتے رہیں۔اس کی پردہ پوشی ہوتی رہے۔لیکن اگر بندہ توبہ نہ کرے اور گناہوں میں ہی پڑا ر ہے تو فرشتے کہتے ہیں کہ ہم کس طرح اسے ڈھا نہیں یہ تو اتنا بڑھ گیا ہے کہ یہ تو ہمیں بھی گندہ کر رہا ہے۔تب اللہ تعالیٰ فرشتوں کو کہے گا کہ اسے الگ چھوڑ دو اور پھر اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ پھر اس کے ہر عیب اور گناہ کو جو اس نے اندھیروں میں بھی کیا ہو ظاہر کر دیتا ہے۔(کنز العمال کتاب الاخلاق قسم الاقوال تتبع العورات من الا کمال جلد 3 صفحہ 184 دارالکتب العلمیة بیروت 2004ء) یعنی خدا تعالی کی پردہ پوشی نہیں رہتی۔پس ہر مومن کو ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تو بہ کرنے والا بنائے تا کہ ہمیشہ اس کی ستاری سے حصہ پاتے رہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کی ستاری کا بیان کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: مالک یوم الدین کا تقاضا یہ ہے کہ با مراد کر دے۔جیسے ایک شخص امتحان کے لئے بہت محنت اور تیاری کرتا ہے مگر امتحان میں دو چار نمبروں کی کمی رہ جاتی ہے تو دنیاوی نظام اور سلسلہ میں تو اس کا لحاظ نہیں کرتے اور اس کو گرا