خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 156
خطبات مسرور جلد ہفتم 156 (13) خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 فرمودہ مورخہ 27 مارچ 2009ء بمطابق 27 رامان 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ایک نام ستار ہے۔مفردات میں لکھا ہے کہ ستار کے معنے ہیں وہ ذات جو پردے میں ہے یا چھپی ہوئی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہا جاتا ہے۔وَاللَّهُ سَتَّارُ الْعُيُوبِ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے جو غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپانے والی ہے اور نہ صرف اللہ تعالیٰ انسانوں کی غلطیوں اور کمزوریوں کو چھپاتا ہے بلکہ احادیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ستر پسند ہے، پردہ پوشی پسند ہے۔مسند احمد کی ایک حدیث ہے آنحضرت ﷺ نے فرمایا انَّ اللهَ عَزَّوَجَلَّ يُحِبُّ الْحَيَاءَ وَالسِّتْرَ - ( مسند احمد جلد 6 صفحہ 163۔مسند یعلی بن امیہ - حدیث 18131 مطبوعہ بیروت۔1998ء) یہ حضرت يَعْلَى مِنْ اُمیہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ یقینا اللہ تعالیٰ حیا اور ستر کو پسند فرماتا ہے۔اور پھر کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ستر اور پردہ پوشی فرماتا ہے۔اس بارہ میں بھی ایک روایت الله ہے۔صفوان بن مُحْرِذ بیان کرتے ہیں ایک شخص نے حضرت ابن عمر سے پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ ﷺے سے راز و نیاز کے متعلق کیا سنا ہے؟ انہوں نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے رب کے قریب ہوگا یہاں تک کہ وہ اپنا سا یہ رحمت اس پر ڈالے گا۔پھر فرمائے گا تم نے فلاں فلاں کام کیا تھا۔وہ کہے گا ہاں میرے رب۔پھر کہے گا فلاں فلاں کام بھی کیا تھا۔وہ کہے گا ہاں۔اللہ پھر اس سے اقرار کروا کر کہے گا۔میں نے اُس دنیا میں تیری پردہ پوشی کی تھی ، یہ مادی دنیا مراد ہے )۔آج ( قیامت کے دن ) بھی پردہ پوشی کرتا ہوں اور وہ ( غلط ) کام جو تو نے کئے تھے میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔( بخاری کتاب الادب۔باب ستر المومن علی نفسه - حدیث نمبر 6070 تو یہ وہ پیارا خدا ہے جو اپنے بندوں سے اس طرح پردہ پوشی اور مغفرت کا سلوک فرماتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ دوسرے مذاہب اللہ تعالیٰ کی پردہ پوشی کا یہ تصور پیش ہی نہیں کر سکتے۔اگر پردہ پوشی کا یہ تصور ہوتا تو مثلاً عیسائیوں میں کفارے کا مسئلہ نہ ہوتا۔اور اسی طرح آریوں