خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 153

153 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم گزشتہ دنوں پھر انتہائی ظالمانہ طور پر ایک نوجوان جوڑے میاں بیوی کو ملتان میں شہید کر دیا گیا اور ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے زمانہ کے امام کو مانا۔دونوں ڈاکٹر تھے اور بڑے ہر دلعزیز ڈاکٹر تھے۔ایک کا نام ڈاکٹر شیراز ہے ان کی 37 سال عمر تھی اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر نورین شیر از 28 سال کی تھیں۔میرا خیال ہے کہ شاید یہ شہداء میں عورتوں میں سب سے کم عمر شہید ہیں۔ان لوگوں کو اتنا بھی انسانیت کا پاس نہیں ہے کہ جو نافع الناس وجود ہیں، انسانیت کی خدمت کرنے والے ہیں ، خدمت خلق کرنے والے ہیں اور تمہارے مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں، ان کو بہیمانہ طریقے سے شہید کر دیا۔یہ مخالفین یا درکھیں کہ احمدی جو ہیں وہ تو کسی مقصد کے لئے شہید ہورہے ہیں لیکن جو آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کے آنے سے جو حق ظاہر ہوا، اس کے انکار کی وجہ سے ملک میں جو بدامنی پھیل رہی ہے اور اس وجہ سے درجنوں معصوم بلا مقصد قتل کئے جارہے ہیں، یہ بھی قدرت کا ایک انتقام ہے جو لیا جارہا ہے کہ اس کے نتیجہ میں تو وہ مسلمان بھی نہیں رہتے جو مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔اور پھر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جو سلوک کرنا ہے جیسا کہ میں نے آیت پڑھی ہے وہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ پھر ان سے کیا سلوک ہوگا۔ان لوگوں کو کچھ خوف خدا نہیں۔اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔گزشتہ دنوں میں پہلے حکومت کے ساتھ فوج کے ساتھ لڑائیاں ہوتی رہیں اس کے بعد پھر حکومت نے ہتھیار ڈال دیئے اور سوات میں ایک شرعی نظام جاری کر دیا گیا اور جب شرعی نظام قائم ہو گیا اور عدالتیں بھی قائم ہو گئیں تو اس کے بعد وہاں کے جو بھی کرتا دھرتا ملاں تھے انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کے جو جج ہیں یہاں آنے کی کوشش نہ کریں۔حکومت کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ یہ سلسلہ جواب شروع ہوا ہے یہ یہاں رکنے والا نہیں ہے۔یہ پورے ملک کو مزید بدامنی کی لپیٹ میں لے گا۔دنیا کی جو صورتحال ہے، دنیا میں پاکستان کی جو صورتحال ہے، اب پورے ملک کو دہشت گرد کا نام دیا جارہا ہے۔یہاں کے وزیر خارجہ نے بھی پچھلے دنوں بیان دیا کہ اگر حکومتوں نے اپنے آپ کو نہ سنبھالا تو مکمل طور پر یہ ملک دہشت گرد قرار دے دیا جائے گا۔وہ مُلاں جو پاکستان کو پلیدستان کہتا تھا اپنی مذموم کوششوں میں کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے۔اور بظاہر تو یہ لگتا ہے کہ اب ان کی کوششیں یہی ہیں کہ اگر ملک ان لوگوں کے ہاتھ میں رہا تو اللہ تعالیٰ رحم فرمائے کہ پاکستان کے نام کو بھی یہ قائم رہنے دیں گے کہ نہیں۔خلفاء احمدیت ہمیشہ حکومت کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان سے بچنا، ان ملاؤں سے بچنا۔اگر ایک دفعہ بھی ان کو کندھے پر سوار کر لیا تو پھر یہ لوگ پیر تسمہ پابن جائیں گے۔لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہی۔ایک طرف یہ لوگ جو سیاستدان ہیں اپنے آپ کو ملک کا ہمدرد اور بڑا منجھا ہوا سیاستدان سمجھتے ہیں اور اس کے دعوے کر رہے ہیں اور دوسری طرف اس خوفناک حقیقت کو نہیں سمجھ رہے کہ ملاں پاکستان کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے اس لئے ان سے کسی بھی قسم کا جو اشتراک ہے وہ حکومتوں کو بھی اور ملک کو بھی نقصان پہنچائے گا۔