خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 152 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 152

152 خطبہ جمعہ فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم قائد اعظم نے فرمائی ہے وہ دن پھر انشاء اللہ تعالیٰ پاکستان کی ترقی کی نئی راہیں متعین کرنے والا دن ہوگا۔فرقہ پرستی اور قومیت کی دیواریں گریں گی تو تبھی قائد اعظم کے خوشحال پاکستان کو پاکستانی دیکھ سکیں گے۔پس اب بھی جو سیاستدان ہیں ان کو اپنی تاریخ سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔کسی کے دین کی جزئیات کا فیصلہ کرنا یا دین کے بارے میں فیصلہ کرنا اور اپنے عقیدے ٹھونسنا نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی اس عظیم شخصیت نے جس نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ مملکت بنا کر دی ہے اس بارہ میں اجازت دی تھی۔ایک شہری کی حیثیت سے پاکستان کے ہر شہری کو اس کے حقوق دینے چاہئیں۔ووٹ کا حق ہے، ملازمتوں کا حق ہے ، مذہب اور عقیدے کا حق ہے۔یہ اس کا حق ہے اس کو ملے۔جہاں تک قانون کے لاگو ہونے کا سوال ہے، قانون ہر ایک کے لئے ایک ہو۔جو بھی قانون بنتے ہیں وہ کیا جائے۔یہ برابری کے حق ملیں گے تو ملک میں سکون کی فضا قائم ہوگی۔ان حکومتوں کو چاہئے کہ اس بات سے سبق سیکھیں کہ 1974ء کے جو فیصلے ہوئے اور پھر 1984ء میں اس میں مزید ترمیم کر کے احمدیوں کے خلاف جو کارروائیاں کی گئیں اور جو پابندیاں لگائی گئیں اس کے بعد سے ملک تنزل کی طرف جارہا ہے۔کوئی ترقی نظر نہیں آتی ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو تین قدم پیچھے چلا جاتا ہے۔احمدیوں نے تو تمام تر ظالموں کے باوجود ملک کی بہتری کے لئے کوشش بھی کرنی ہے اور دعا بھی کرنی ہے اور وہ کریں گے۔لیکن احمدیوں کو نقصان پہنچانے والے یہ یاد رکھیں کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر تیم سے ایک دن ضرور بدلہ لے گی۔آئے دن قانون اور اسلام کی آڑ میں احمدیوں کو جو شہید کیا جاتا ہے یہ خون کبھی رائیگاں نہیں جائے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہمیشہ یا درکھو۔فرمایا کہ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَلِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (النساء: 94) اور جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے اور وہ اس میں بہت لمبا عرصہ رہنے والا ہے اور اللہ اس پر غضبناک ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس نے اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔پس اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ایمان کے بارے میں تو حدیث میں آتا ہے کہ سب سے افضل ایمان کا حصہ لَا اِلهَ إِلَّا الله کہنا ہے۔( ترندی کتاب الدعوات باب ان دعوة المسلم حدیث: 3383) پورا کلمہ بھی نہیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ سب سے افضل حصہ صرف لا اله الا اللہ کہہ دینا ہے۔اور پھر وہ واقعہ جب ایک صحابی نے جنگ کی حالت میں دشمن کو زیر کر لیا اور اس نے کلمہ پڑھ لیا اور پھر بھی انہوں نے اس کو قتل کر دیا اور آنحضرت ﷺ تک جب یہ بات پہنچی تو آپ نے اس شدت سے اسے کہا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھا تھا کہ اس نے ڈر کے مارے کلمہ پڑھا ہے یا اس نے دل سے کلمہ پڑھا ہے۔وہ صحابی کہتے ہیں اس وقت جو غصے کا اظہار آ نحضرت ﷺ نے فرمایا تو میں یہ چاہتا تھا کہ کاش میں آج سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا۔اس کے باوجود یہ اپنی تعریفیں کر کے کلمہ گوؤں کو قتل کرتے چلے جارہے ہیں، شہید کرتے چلے جارہے ہیں۔( بخاری کتاب المغازی باب بعث النبی ﷺ اسمت۔۔۔حدیث: 4269) : عروسة