خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 151
151 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم آج کل کی حکومتیں جو پاکستان میں مرکزی اور صوبائی سطح پر قائم ہیں۔ان کو ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان لوگوں کو پاکستان کی بقا عزیز ہے جس کے لئے ہر احمدی اور ہر شریف النفس شہری ہمیشہ کوشش بھی کرتا ہے اور دعا بھی کرتا ہے تو اس پاکستان کو قائم کریں جو حضرت قائد اعظم قائم کرنا چاہتے تھے۔نہ یہ کہ مذہبی بنیادوں پر نفرتوں کی دیوار میں کھڑی کی جائیں۔مذہب کی بنیاد پر دوسروں کے خون سے ہولی کھیلی جائے۔قائد اعظم کیا فرماتے ہیں؟ 1947ء کے صدارتی خطبہ میں، اسمبلی میں جو دستور ساز اسمبلی تھی ، اس میں قائد اعظم کا یہ ارشاد دیکھیں اور پاکستان کی 1974ء کی اسمبلی نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بھی دیکھیں۔قائد اعظم نے تو یہ فرمایا تھا کہ: اگر ہمیں پاکستان کی اس عظیم الشان ریاست کو خوشحال بنانا ہے تو ہمیں اپنی تمام تر توجہ لوگوں کی فلاح و بہبود کی جانب مبذول کرنا چاہئے۔خصوصاً عوام اور غریب لوگوں کی جانب۔اگر آپ نے تعاون اور اشتراک کے جذبے سے کام کیا تو تھوڑے ہی عرصے میں اکثریت اور اقلیت، صوبہ پرستی اور فرقہ بندی اور دوسرے تعصبات کی زنجیریں ٹوٹ جائیں گی۔فرمایا کہ ” ہماری ریاست کسی تمیز کے بغیر قائم ہورہی ہے۔یہاں ایک فرقے یا دوسرے فرقے میں کوئی تمیز نہ ہوگی۔یہاں ذات یا عقیدوں میں کوئی تمیز نہ ہوگی۔ہم اس بنیادی اصول کے تحت کام شروع کر رہے ہیں کہ ہم ایک ریاست کے باشندے اور مساوی باشندے ہیں۔آپ آزاد ہیں، آپ اس لئے آزاد ہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنی مسجدوں میں جائیں یا پاکستان کی حدود میں اپنی کسی عبادت گاہ میں جائیں۔آپ کا تعلق کسی مذہب، کسی عقیدے یا کسی ذات سے ہو اس کا مملکت کے مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بات بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنی چاہئے۔یہ قائد اعظم فرمارہے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ بات بطور نصب العین اپنے سامنے رکھنی چاہئے اور آپ یہ دیکھیں گے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندو ہندو نہ رہے گا اور مسلمان مسلمان نہ رہے گا۔مذہبی مفہوم میں نہیں کیونکہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے بلکہ سیاسی مفہوم میں اس مملکت کے ایک شہری کی حیثیت سے“۔(افکار قائد اعظم صفحہ 358 مرتبه محمود عاصم۔ناشر مکتبہ عالیہ ایک روڈ لاہور ) اب یہ تصور قائد اعظم نے پیش کیا ہے اور 1974ء کی اسمبلی اس سے بالکل الٹ کام کر رہی ہے۔پس بانی پاکستان کا اسمبلیوں کے کام اور حکومتی معاملات چلانے کے لئے یہ تصور تھا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اسمبلیوں کا کام نہیں ہے کہ کسی کے مذہب اور عقیدے اور عبادت کے طریقوں کا فیصلہ کرتی پھرے کہ کس نے کس طریقے سے عبادت کرنی ہے۔جس دن حکومت پاکستان میں اس اصل کو سمجھ کر اس اصول پر کام کرنا شروع کیا گیا جس کی راہنمائی