خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 148 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 148

148 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم وہ مایوس ہو کر ہندوستان چھوڑ کر یہاں انگلستان میں آگئے تھے۔انہوں نے خود لکھا ہے کہ " مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔آخر میں نے لنڈن ہی میں بود و باش کا فیصلہ کر لیا۔( قائد اعظم اور ان کا عہد از رئیس احمد جعفری صفحہ 192 بحوالہ تمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صفحه از پروفیسرمحمدنصرالله راجا) یہ جو صورتحال تھی اس سے ہند کے جو مسلمان تھے ان کو بڑا سخت دھچکالگا اور سب سے زیادہ ہمدردی تو جماعت احمدیہ کوتھی اور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو تھی۔تو آپ نے اس کے لئے بڑی کوشش کی اور یہاں لندن میں اس وقت مولانا عبدالرحیم درد صاحب امام تھے، ان کے ذریعہ سے قائد اعظم پر زور ڈالا کہ وہ دوبارہ ہندوستانی سیاست میں آئیں اور بڑی کوششوں سے درد صاحب نے ان کو قائل کیا۔آخر قائد اعظم نے خود کہا کہ امام صاحب کی بڑی ترغیب تھی اور ان کی بہت زیادہ زور اور تلقین نے میرے لئے کوئی جائے فرار باقی نہ چھوڑی۔بلکہ ایک غیر از جماعت مورخ اور صحافی م ش صاحب ہیں، انہوں نے بھی لکھا کہ ” مسٹر لیاقت علی خان اور مولا نا عبد الرحیم در دامام لنڈن ہی تھے جنہوں نے مسٹر محمد علی جناح کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنا ارادہ بدلیں اور وطن واپس آکر قومی سیاست میں اپنا کردار ادا کریں۔اس کے نتیجہ میں مسٹر جناح 1934 ء میں ہندوستان واپس آگئے اور مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے“۔(پاکستان ٹائمنز 1 ستمبر 1981 سپلیمیٹ 11 الم نمبر 1 حوالہ تعمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا مثالی کردار صحه 8 از پروفیسرمحمدنصرالله راجا ) جسٹس منیر جو 1953ء کے عدالتی کمیشن کے صدر تھے انہوں نے لکھا ہے کہ "احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزام لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس لئے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیار کیا اور چوہدری ظفر اللہ خان نے جنہیں قائد اعظم نے اس مشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے پر مامور کیا تھا خاص قسم کے دلائل پیش کئے۔لیکن عدالت ہذا کا صدر جو اس کمیشن کا ممبر تھا، (جسٹس منیر اس کمیشن کے ممبر بھی تھے ) اس بہادرانہ جدو جہد پر تشکر و امتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چو ہدری ظفر اللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں کی تھی۔یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن حکام کے کاغذات میں ظاہر وباہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلہ سے دلچسپی ہو وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے۔چوہدری ظفر اللہ خان نے مسلمانوں کے لئے نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ شرمناک ناشکرے پن کا ثبوت ہے“۔( رپورٹ تحقیقاتی عدالت المعروف منیر انکوائری رپورٹ صفحہ 305 ، شائع کردہ نیاز مانہ پبلیکیشنز ) چوہدری ظفر اللہ خان نے تو جو خدمات کی ہیں اور اس کے مقابلے میں اس عدالت کے سامنے غیر احمدیوں نے جس طرح بیان دیا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔